اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کرونا سے کامیابی سے نمٹ رہی ہے پیپلز پارٹی کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی،وزیراعظم عمران خان نے کرونا کی صورتحال کے حوالے سے عوام کو مکمل باخبر رکھا،این سی او سی میں جتنے فیصلے ہوئے اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، کچھ جماعتیں اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں، پاکستان میں کرونا کا پھیلاو¿و اب بھی ہمارے تہمینہ سے کم ہے،این سی اور سی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ تمام فیصلوں سے اتفاق کرتے ہیں ،کراچی پہنچ کر وزیر اعلی سندھ سندھ تمام فیصلوں سے انکاری ہوجاتے ہیں جبکہ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کو گزشتہ پانچ سال میں 5کھرب روپے ملے لیکن صحت کی سہولیات ناپید ہیں، صوبے میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہیں، مراد علی شاہ زرداری کے کرپشن میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار دونوں وزراءنے ہفتے کے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پوری دنیا کورونا وبا کی وجہ سے مشکلات سے دوچارہے۔ حکومتی اقدامات کی دنیا بھر میں پذیرائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کیلئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کیا گیا۔ کورونا سے نمٹنے کے لئے متفقہ لائحہ عمل کیلئے این سی او سی ادارہ بنایا۔ عوام کو کورونا صورتحال کے بارے میں پوری طرح باخبر رکھا۔ تمام اداروں نے آپس میں بہتر روابط کے نظام پر عمل کرتے ہوئے موثر اقدامات کئے جس کے ذریعے نقصانات کم سے کم ہوئے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں صورتحال کو متنازعہ بنانا چاہتی ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ این سی او سی میں تمام باتوں پر اتفاق کرتے ہیں بعد میں میڈیا پر آ کر سیاست کرتے ہیں، اس موقع پر وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید نے کہا کہ بلاول بھٹو رٹی رٹائی تقریر یں کرتے ہیں۔ انہوں نے پورے چالیس منٹ کی پریس کانفرنس میں سندھ حکومت کے کورونا سے نمٹنے کے اقدامات کے حوالے سے ایک بھی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کا ہیلتھ سسٹم کورونا وبا کے سامنے بے بس ہو چکا امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں جبکہ بہترین سہولیات والے یورپی ممالک بھی بری طرح مسائل کا شکار ہیں۔ مراد سعید نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے اپنے والد آصف زرداری کا علاج بھی کسی سرکاری ہسپتال میں نہیں ہورہا۔ طویل عرصے تک حکومتیں کرکے ایک بھی ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں ان کا علاج ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے غریبوں کو مشکلات سے بچانے کے لئے 12ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے 144ارب روپے کا پیکج دیا۔ لوگوں کو نوکریوں سے نہ نکالنے والے کاروباری حضرات کے لئے بھی رعایتی قرض پیکج کا اعلان کیا۔ مراد سعید نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے یومیہ کورونا ٹیسٹ کی صلاحیت 30ہزار ہوگئی ہے۔ بیس ہزار سے زائد ڈاکٹروں اوعر طبی عملے کو کورونا سے نمٹنے کے لئے ٹریننگ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ایس او پیز پر عمل نہ کرنے سے کورونا پھیلنے کا خدشہ ہے لوگوں کو تنبیہ کے طور پر 1311مارکیٹیں جبکہ 83 انڈسٹریل یونٹس کو ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث سیل کیا گیا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ کورونا وبا کے آغاز میں صرف دو لیب کام کر رہی تھیں جبکہ اب تعداد بڑھ کر 70ہو چکی ہے جہاں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے ازخود تمام چیزیں درآمد کرسکتے ہیں لیکن فنڈز ملنے کے باوجود سندھ نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے صوبے میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین اور لوگوں کے لئے ہسپتالوں میں سٹریچر اور ایمبولینس نہیں ہوتی۔ مراد سعید نے کہا کہ ڈاکٹر فرقان جیسا مسیحا سہولیات نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں عالمی وبا کے دوران بھی کرپشن کی فکر ہے۔ مراد علی شاہ آصف زرداری کی کرپشن میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے لوگوں کو راشن دینے کا وعدہ کیا لیکن راشن آج تک کسی کو نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں پچاس سال کے عرصے کے بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوبار اٹھایا گیا۔ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں کشمیر کا مسئلہ اس انداز میں نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے اس پر کسی کو تنقید کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔






