برازیلی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں کے مجموعی اعداد و شمار ویب سائٹ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برازیل کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔سویڈن نے کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دیگر یورپی ممالک کے برعکس لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے باوجود اس یورپی ملک کی معیشت میں بھی ریکارڈ کمی ہونے کا اندیشہ ہے۔سویڈن کے بااثر فنانشل گروپ سے وابستہ ماہر اولے ہومگرین نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”دنیا کے دیگر ممالک کی طرح اس برس کی دوسری سہ ماہی میں سویڈن کی معیشت میں بھی ریکارڈ کمی ہو گی۔‘ہومگرین کا مزید کہنا تھا کہ سال کے اختتام تک ممکنہ طور پر معیشت بحال ہونا شروع ہو جائے گی۔سویڈن میں صحت سے متعلق حکام نے عوام کو سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور سفر سے گریز کرنے کی تلقین کر رکھی ہے لیکن ملک میں ریستوران، کلبز اور دیگر کاروباری مراکز کھلے رکھے گئے تھے۔ایک کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل اس یورپی ملک میں آج اتوار کی صبح تک کووڈ انیس کے مریضوں کی تعداد 43,900 ہو چکی ہے جب کہ اب تک 4,656 شہری ہلاک بھی ہوئے ہیں۔پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کووڈ انیس کے مزید 4,960 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 98,943 ہو گئی ہے۔اسی دوران کورونا وائرس سے متاثرہ مزید 67 پاکستانی شہری ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بھی دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ پنجاب اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں۔


