پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کے بیان سے متعلق بھارتی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے بیان کو مکمل طور پرتوڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم جھوٹے اور من گھڑت بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے حقائق کو مکمل طور پر مسخ کرنے پر مبنی بھارت کے بیان کو مسترد کرتے ہیں، یہ گھناؤنی کوشش قابل مذمت ہے۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کا 5 جون، 2020 کا بیان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے خلاف جاری جرائم سے عالمی برداری کی توجہ ہٹانے کی مہم کی کوشش کا حصہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا ہے جس میں سرحد پار سے ہمارے لوگوں کے خلاف کی جانے والی دہشت گردی شامل ہے۔اس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں ہمارے ہزاروں شہری جاں بحق ہوئے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں۔دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی بھارتی کوشش کو مسترد کرنے کے بعد 5 جون کو بھارتی وزارت خارجہ نے گزشتہ برس واشنگٹن میں یوایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے گفتگو میں عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بانسیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے سینئر حکام اور دیگر بھارتی مبصرین پاکستان کے مختلف حصوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے سے متعلق اپنے مذموم ڈیزائنز کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ آج بھارتی اقلیتوں کے خلاف ہندوتوا کی دہشت گردی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور پڑوسی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے بطور آلہ دہشت گردی کا استعمال مکمل طور پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ترجمان کے مطابق بھارت اپنے پاکستان مخالف بیان کو فروٖغ دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے، ہمیں یقین ہے کہ عالمی برادری کو گمراہ نہیں کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق متعلقہ عالمی شراکت داروں کی جانب سے افغانستان میں جاری امن عمل کے سہولت کار متعلق پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل کے آغاز سے عالمی برادری کو خطے میں بدخواہوں کے کردار سے خبردار کردیا تھا جو مخالفین افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی آتے نہیں دیکھنا چاہتے، اور امن عمل کے کامیابی سے آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا کرنا کا کوئی موقع نہیں چھوڑنا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ کہتے ہیں کہ متعلقہ فریق ممالک ایسی کوششوں سے بچیں جبکہ ہم افغانستان میں جامع سیاسی تصفیہ کی حمایت جاری رکھے گا۔





