پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ کراچی میں طیارہ حادثہ سے متعلق انکوائری کمیشن میں مفادات کا ٹکراؤ سامنے آرہا ہے۔سینیٹ کے اجلاس میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) طیارہ حادثہ پر توجہ دلاؤ نوٹس میں سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ کمیشن میں بیشتر افراد کا تعلق پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) سے ہے جن کا کمرشل پروازوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی نمائندگی ہے جو ایئر ٹریفک کو کنٹرول کرتا ہے لیکن انکوائری کمیشن میں کوئی ایسا پائلٹ شامل نہیں کیا گیا جو کمرشل طیارہ اڑاتا ہو۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے پی آئی اے کو خط میں لکھ کر واضح کیا کہ پائلٹ کو ایئر ٹریفک سے ہدایت ملیں لیکن انہوں نے عملدرآمد نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ سی اے اے نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو پس پشت ڈال کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ’انکوائری یہ کرنی چاہیے کہ پی آئی اے میں جب سے موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ایئرمارشل ارشد ملک آئے ہیں، پی آئی اے کے کیا حالات ہیں؟’انہوں نے تنقید کی کہ پی آئی اے کے اندر وار کورس کی کیا ضرورت ہے اور موجودہ سی ای او کو سندھ ہائی کورٹ نے برطرف کیا جسے سپریم کورٹ نے بحال کردیا جبکہ انہوں نے پی آئی اے کے اندر مارشل لا نافذ کیا ہوا ہے۔رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی نے مزید کہا کہ پی آئی اے میں اسپیشل سروس ایکٹ نافذ کردیا گیا جس کے بعد ملازمین کے لیے نوکری کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔






