چاغی ،  ٹرانسپورٹرز نے ایس او پیز کو ہوا میں اڑا دیا

چاغی ، ٹرانسپورٹرز نے ایس او پیز کو ہوا میں اڑا دیا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چاغی ( نامہ نگار) چاغی حکومت کیجانب سے ٹرانسپورٹ سے پابندی ہٹانے کےبعد جوں ہی ضلعے کے دیگر علاقوں کیطرح چاغی ٹو کوئٹہ اور چا غی ٹو نوشکی روٹ پرچلنے والے ٹرانسپورٹرز نے اپنے کوچز چلانا شروع کر دیا ابتدا سے ہی انھوں نے کرونا وائرس کے پھیلنےکےخطر ات کےپیش نظرحکومت کیجانب سےعائد کیئے گئے تمام شرائط وضوابط کو مذاق گر دان کر انھیں ہوا میں اڑا دیا ہے اسکی واضح مثال یہ ہے کہ جسطرح ان کوچز میں سواریوں کو ٹرانس پورٹ پر پابندی عائد کرنے سے پہلے بٹھایا جاتا تھا بلکل اسیطرح اب پابندی ہٹھانے کے بعد بھی سواریوں کو بیڑ بکریوں کی طرح بٹھایا جاتا ہے کوچز کےاندرمتعلقہ انتظامی عملہ کو خود بھی یہ احساس نہیں کہ اس وقت پورےملک کیطرح یہاں بھی احتیاطی تدابیر اختیارنہ کرنے کیوجہ سے کرونا وائر س سے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور انکی اس رویئے اور ناقص انتظامات کی وجہ سے سواری کرونا وائرس سے متاثر ہوکر انکےجان جانے کےخطرات زیادہ ہیں لیکن کوچز کے ڈرائیورز اور کلینرز کو احتیاطی تدابیر اختیارکرنےکا ایک ذرہ قدر بھی احساس نہیں ہے کہ اگرچہ حکو مت نےٹرانسپورٹ سےپابندی ہٹھایا ہے لیکن اس دوران کچھ شرائط بھی لاگو کیئےگئے ہیں۔تاکہ سفر کے دو ران تمام سواری اور متعلقہ انتظامی عملہ ان شرائط پر سختی سےعمل کرکےکرونا وا ئرس سے تمام سواریو ں اور اپنی جان کی تحفظ کو یقینی بنائیں لیکن سفر کے دوران ان عوامل پر کوئی عملدر آمد نہیں ہے کوچز کے اندر تقریبن 42 یا 46 نشستیں ہیں۔قبل ازیں ان نشستوں پر سواریاں بٹھانے کے علاوہ گلیوں میں بھی سواری بٹھایا جاتا تھا۔لیکن بالکل اسی طرح اب بھی ان تمام نشستوں پر اور گلی میں پہلے کیطرح سواری بٹھائے جاتے ہیں ٹرانسپورٹ پر پابندی لگانے سے قبل چاغی ٹوکوئٹہ کرایہ 5سو روپے اور چاغی ٹو نوشکی کرایہ 350 روپے تھا۔لیکن اب ٹرانسپورٹ سے پابندی ہٹھانے کے بعد چا غی ٹو نوشکی 500 اور چاغی ٹو کوئٹہ 900 روپے وصول کیئے جاتے ہیں جو کہ سرا سرظلم ہے اوریہ کرایہ ٹرانسپورٹرز اس وقت لے سکتے ہیں جب یہ لوگ SOP’s پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور کوچز کے مکمل 42 یا 46 نشستوں پرسواری بٹھانے کی بجائے صرف 21 یا 23 نشستوں پر سواریوں کو بٹھانے کا اہتمام کریں تاکہ سواری ایک دوسرے سے فاصلوں میں بیٹھ کر اس بیماری سے محفو ظ رہیں لیکن یہاں صورتحال مکمل طور پر اسکے برعکس ہے یہاں کےٹرانسپورٹرز حکو متی شرائط کو پیروں تلے روند کر عوام کو لوٹ رہے جو کہ ظلم کی انتہاء ہے جسکی اجازت ہم ہرگز نہیں دے سکتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!