اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر دفاع کے من گھڑت بیان کا دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کشمیری ان کے ساتھ ہیں تو میں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ مظفرآباد آ جائیں ےاعمران خان اور مجھے سری نگر بلا لےں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ، بھارت میں مسلمانوں پر مظالم سے پوری دنیا آ گاہ ہے،بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بن بھی گیا توکوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی۔ پاکستان سمیت نیپال، بنگلہ دیش، چین تمام ہمسائے بھارت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ اسلام آباد مےں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشن اور کالے قوانین کے نام پر آج بھی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر کی تقسیم کو کسی نے بھی تسلیم نہیں کیا، 5 اگست کے اقدامات کو کشمیری کسی صورت تسلیم نہیں کرتے، ہم نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بھارت کے اندر مسلمانوں سے امتیازی سلوک پر اقوام متحدہ، او آ ئی سی سمیت بین الاقوامی اداروں کو خطوط لکھے اور مراسلے بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا کشمیری آج بھارت سے متنفر ہے گزشتہ سات دہائیوں میں نہیں تھا، بھارت میں مسلمانوں پر مظالم سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سمیت تمام ہمسائے بھارت سے نالاں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کھلی کچہری کا موقع فراہم کیا جائے، سلامتی کونسل کی ممبرشپ کیلئے ایک مرحلہ ہوتا ہے، بھارت سلامتی کونسل کا ممبر بن بھی گیا توکوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی، بھار ت7 بار سلامتی کونسل کا ممبر بن چکا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان کے مو¿قف کی تائیدکرتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان بھی سات بار سلامتی کونسل کا ممبربن چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت عالمی قراردادوں کو اہمیت کیوں نہیں دے رہا، بھارت انسانی حقوق کی پامالیاں کیوں کر رہا ہے، جائزہ لیا جانا چاہئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہلی کے واقعات کو بھارت نہیں چھپا سکتا، بھارت کا کونسا ہمسایہ ہے جو بھارتی حکومت کے اقدامات سے خوش ہے، بھارت کے چین سے لداخ معاملہ پر مذاکرات چل رہے ہیں، بھارتی اقدامات خطہ کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکے ہیں جبکہ بھارتی ہٹ دھرمیوں نے علاقائی تنظیم سارک کو بھی غیر فعال کر دیا ہے ۔ جتنا کشمیری آج بھارت سرکار سے متنفر ہے اتنا پچھلی سات دہائیوں میں نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی سرکار غلط فہمی کا شکار ہے، اس طرح دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا
