لاہور:مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے حکومت کو تجاویز پیش کر دیں جبکہ کا ملک میں بڑے پیمانے پر پبلک ورکس پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ،اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت چلانے کے لئے شرح سود فی الفور کم کرکے 6 فیصد کی جائے ،ملک بھر میں سرکاری ترقیاتی پروگرام کے تحت تعمیرات کا آغاز کیاجائے تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے ، سڑکیں، سکول، کلینک، گودام، نہروں کوپختہ بنانے کے منصوبے شروع کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، پی،ایس،ڈی،پی میں اضافے کے بجائے گزشتہ برس سے بھی کم بجٹ رکھا ہے ،ملک میں نئے منصوبے شروع کرکے معاشی سرگرمیاں بڑھاسکتے ہیں ،حکومت انکم ٹیکس میں کمی کا جراتمندانہ اقدام کرے، عوام سے بوجھ کم کرے ،برے حالات میں عوام کو ریلیف اور رعایت پر مبنی بجٹ دیں، طلب بڑھانے سے ہی معیشت چل سکتی ہے ،سی پیک منصوبوں کے لئے وسائل اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں،سی پیک کے تحت کراچی سے پشاور تک ریلوے کی اپ گریڈیشن کے لئے مختص رقم سے یہ منصوبہ اگلے 200 سال میں مکمل نہیں ہوگا ،ٹیکس جمع نہ ہونے کی ذمہ دارخود حکومت ہے، یہ اس کا اپنا پیدا کردہ مسئلہ ہے ،مسلم لیگ (ن) نے ٹیکس وصولی سالانہ 14.5 فیصد کے مجموعی شرح پر رکھی تھی ،پی ٹی آئی ہماری بنائی ہوئی پالیسی پر چلتی تو اس سال 5000 ارب ٹیکس جمع ہو چکا ہوتا۔پی ٹی آئی ہماری بنائی پالیسی پر چلتی تو آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف 5700 ارب ہوتا ،ضد کے بجائے دانائی، دانشمندی، کھلے ذہن اور دل سے سوچا جائے،حکومت عوام سے وسائل لینے کے بجائے انہیں وسائل اور ریلیف دینے کی پالیسی اپنائے، 5.8 فیصد اور منفی شرح ترقی کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، دونوں کے لئے بجٹ میں الگ نوعیت کے اقدامات درکار ہیں
