کوئٹہ:وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہاہے کہ عالمگیر وباءکے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ہیروز کیلئے میں وزیراعظم عمران خان کا پیغام لیکر آیاہوں ،کورونا کامقابلہ صرف اور صرف ایس او پیز پرعملدرآمد سے ہی کیاجاسکتاہے ،وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کی ہرممکن مدد کررہاہے ،سب سے زیادہ سہولیات کی ضرورت بھی بلوچستان کو ہے ،پاکستان تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کی بہت عزت کرتی ہے ،بلوچستان سے پیسے نہیں کاٹے ،آنے والے دنوں میں این ایف سی ایوارڈ کے 30 ارب روپے پورے کیے جائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے لائزن اسسٹنٹ ملک عادل خان بازئی ،پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان محمدآصف ترین کے ہمراہ سول سیکرٹریٹ میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وبا کیخلاف اٹھائے گے اقدامات عوام کے بہتر مفاد میں کئے بر وقت اقدامات سے بہت بڑی تباہی سے بچ گئے اور حکومت صحت کے حوالے سے اور کویڈ 19کی روک تھام کیلئے ہمیشہ چوکس ہے کچھ لوگوں نے جلد بازی میں لاک ڈاﺅن کا فیصلہ کیا انہی علاقوں میں اب وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔کورونا وبا کیخلاف لڑنے والے ڈاکٹرز قوم کا فخر اور ہمارے ہیروز ہیں ان کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا ئے گا۔ ڈاکٹرز کیساتھ ہمارے میڈیا ورکرز بھی زیادہ متاثر ہوئے ہمیں ایسے کارکنوں پر فخر ہے کہ وہ ہر تکلیف دہ موقعوں پر اپنی جان کا پرواہ کئے بغیر قوم کی بہتر مفاد میں نکلتے ہیں۔۔دورہ کوئٹہ کے موقع پر ایسے ڈاکٹرز سے ملاقات ہوئی جو کورونا سے خود متاثر ہو کر عوام کو وبا سے بچانے کیلئے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں میں ان قومی ہیروز کو وزیر اعظم عمران کی طرف سے خراج تحسین پیش کر رہا ہوں ۔شہباز گل نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت تھی کہ اپنے صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں اسی وجہ سے وزیر اعظم کا پیغام لے کر ڈاکٹرز کے پاس آیا تھا کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا کسی بھی ہسپتال میں حفاظتی کٹس کی کمی نہ تھی ۔انھوں نے کہا ابتدا میں کوروناوائرس کی دو لیبارٹری تھیں اب 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ ہو رہا ہے اور اسکو مزید بڑھایا جائیگا۔کوئٹہ کے فاطمہ جناح ہسپتال میں 100 مزید بستروں کا اضافہ کیا جائے گااور اس کیساتھ ساتھ ضلع لورالائی میں ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی جارہی ہیں،شہباز گل نے کہا کہ انڈیا میں 34 فیصد گھرانے ایسے ہیں جن کے پاس کھانا نہیں، وہاں کی عوام حکومت کی غفلت سے زیادہ کرونا سے متاثر ہوئی۔شہباز گل نے کہا کہ وزیر اعظم نے قوم کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کئے، وہ ہر وقت قوم کی رہنمائی کیلئے آگے آتے اور قوم کو وقتا فوقتا حالات سے آگاہ کرتے رہے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت بلوچستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہم لاک ڈاﺅن کے حق میں نہیں تھے وزیراعظم نے ہمیشہ عوامی مفاد کومدنظررکھتے ہوئے فیصلہ کیاہے ،سخت لاک ڈاﺅن سے غربت میں اضافہ ہواہے ،لاک ڈاﺅن کانتیجہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انڈیا میں 34 فیصد گھرانے ایسے ہیں جن کے پاس کھانا نہیںہے لیکن کچھ لوگوں نے جلد بازی میں لاک ڈان کے فیصلے کیے وہاں بھی کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا،انہوں نے کہاکہ ہر سیاسی جماعت اپنے منشور کو لے کر ایوان میں آتی ہے ہم اپنے اتحادیوں کی بہت عزت کرتے ہیں، یہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہوتے ہیں ،سرحدیں کوروناوائرس کی صورتحال کے باعث بند کیے گیے ہیںدنیا جہاں میں کورونا کی وجہ سے بارڈرز بند کئے گئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے پیسے نہیں کاٹے گئے تاہم کچھ فرق آیاہے وہ بھی آنے والے دنوں میں این ایف سی ایوارڈ کے 30 ارب روپے پورے کیے جائیں گے، جب کرپشن کم ہوگی تو مسائل بھی کم ہونگے ۔اس موقع پر بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ابتک 287 ڈاکٹرز کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے 5 شہید ہوئے، 69 پیرا میڈکس متاثر ہوئے جن میں سے 3 شہید ہوئے، انھوں نے کہا کہاب تک 6 ارب روپے وباء سے لڑنے کے لیے رلیز کیے گئے،اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔لاک ڈاﺅن سے غربت میں اضافہ ہواہے حکومت بلوچستان نے 84کروڑ روپے کاراشن تقسیم کیاہے بلوچستان کو پسماندگی ،رقبے کے لحاظ سے وسائل دئےے جائیں ۔
