کوئٹہ و اندرون بلوچستان (بیوور رپورٹ +نمائندے )مزدور و عوام دشمن بلوچستان صوبائی بجٹ 2020.21 کیخلاف کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ بلوچستان لیبر فیڈریشن کی کال پر سینکڑوں مزدور ملازمین سڑکوں پر نکل آئے ۔ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے بینویلنٹ فنڈ کی یکمشت ادائیگی کا نویفکیشن نہ کرنے اتھارٹیز اور دیگر سرکاری اداروں کو تنخواہوں کے فنڈز بروقت ادا نہ کرنے مختلف کیڈرز کی پوسٹوں کو 30 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اپ گریڈ نہ کرنے مہنگائی بیروزگاری میں اضافے کیخلاف کوئٹہ ۔ سبی ۔لورالائی ہرنائی خضدار قلات ژوب حب چمن ڈیرہ اللہ یار ڈیرہ مراد جمالی مستونگ نصیر آباد جعفر آباد کے کے مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکال کر مزدور اور عوام دشمن صوبائی بجٹ مہنگائی بیروزگاری بیروزگاری کیخلاف ریلیاں نکال کر زبردست احتجاج کیا گیا کوئٹہ میں بلوچستان لیبر فیڈریشن کے تحت مرکزی ریلی کی قیادت فیڈریشن کے صدر خان زمان نے کی جیکہ دیگرمزدور رہنما۶ قاسم خان بشیر احمد معروف آزاد عابد بٹ سیف اللہ دین محمد عارف نچاری ملک وحید کاسی منظور احمد ظفرخان رند محمد عمر جتک حاجی عزیز اللہ فضل محمد عزیز شاہوانی نورالدین بگٹی حمید چراغ اور دیگر مزدور تنظیموں کے رہنما۶ شریک تھے مزدور رہنمائو ں نے مزدور دشمن صوبائی بجٹ کو بلوچستان کے مزدوروں اور ملازمین کی حق تلفی اور اسے بدترین مہنگائی کا پیش خیمہ قرار دیا اور مزدور دشمن بجٹ کیخلاف نعرے لگائے عظیم الشان احتجاجی ریلی کے شرکا۶ سے صدر خان زمان قاسم خان پیر محمد عبدالمعروف آزاد عابد بٹ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے غریب محنت کشوں ملازمین اور صوبے کے سفید پوش طبقہ کو شدید مسائل سے دوچار کردیا ہے ۔ بلوچستان میں مہنگائی بیروزگاری عروج پر ہے ۔ بلوچستان کا محنت کش طبقہ و ملازمین صوبائی حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے سراپا احتجاج بن چکا ۔ بلوچستان حکومت نے دو سال میں صرف دعوئو ں کے سوا کچھ نیں کیا منظوری کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی ہونیوالے بینویلنٹ فنڈ کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر یکمشت ادائیگی کا نوٹیغکیشن جاری نہ کرنا مزدور دشمنی ہے ۔ 30 سال سے مختلف محکموں میں ایک ہی کیڈر کی پوسٹ پر فرائض انجام دینے والے ملازمین کی اپ گرڈیشن نہیں ہوئی لا ۶ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکمے لیت و لال سے کام لے رہے ہیں ۔ بلوچستان میں واسا بی ڈی اے اور مینسپل کمیٹیاں تنخواہوں کے فنڈز سے اکثر محروم رہتی ہیں ۔سندھ پنجب اور کےپی کے میں آئین پاکستان کی روسے بنے لیبر قوانین اور فوت و شہید ہونے والے ملازمین کے حقیقی ورثا بھرتی ہورہے ہیں صرف بلوچستان میں ان قوانین پر عمل ہو رہا ہے بلوچستان کے ملازمین مزدوروں کیلئے دہری پالیسیاں بنائی گئی ہیں بلوچستان حکومت صرف نام کی ہے یہاں مزدور کو تحفظ حاصل ہے نہ کوئی مسائل پر توجہ دے رہا ہے کورونا کی آڑ میں اربوں روپے ادھر ادھر ہوگئے ملازمین کی تنخواہوں 10 فیصد اضافہ نہ کیا کیا رہنمائو نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مزدوروں اور ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے ورنہ بلوچستان لیبر فیڈریشن جلد کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیاں نکال کر شدید احتجاج کریگی اور دہم شاہراہوں پر دھرنے دیئے جائیں گے-
