بلوچستان حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع

بلوچستان حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری شروع

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک بار پھر تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہونے کے لیے تیار ہو گئیں،بلوچستان حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کےلئے تیاری شروع کر دی گئی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی اس ضمن میں جے یو آئی نے ن لیگ کو راضی کرنے کے لیے اگلے ہفتہ اہم ملاقات کر ینگی ۔ دوسری جانب عمران خان نے بھی اپنے اتحادیوں سمیت دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے قبل ازقت انتخابات کے انعقاد پر سوچنا شروع کر دیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جے یو آئی ف کے قائد مولانا فضل الرحمن اپنے دوست آصف علی زرداری کی مدد سے اختر مینگل گروپ سے معالات طے کرنے میں کوشاں ہیں،۔جے یو آئی ف ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے دھرنا ختم کرتے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ انہیں ایک سال کے اندر بلوچستان حکومت دی جائیگی اور جس کا وعدہ بھی کیا گیا تھا،پاکستان پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وفاق میں حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہتے تاہم حکومت کی پالیسیوں اور روش کے خلاف کسی بھی اپوزیشن اتحاد کا حصہ ہو سکتے ہیں اور پھر اکثریت کا فیصلہ ہی قبول کیا جائے گا،پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما ابھی کشمکش کا شکار ہیں تاہم انہوںنے حکومت کے خلاف ابھی تک کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کر رکھا ہے ،تاہم مسلم لیگ کو کچھ رہنماﺅں کا مشورہ ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنا جائے تاہم اس پر فیصلہ ہونا باقی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ منگل یا بدھ کو مولانا فضل الرحمن اور بلاول کی علحیدہ علحیدہ ملاقات ہونا متوقع ہے ۔پارلیمنٹ کی راہداریوںمیں یہ بات بھی گردش کرتی رہی کہ حکومت کو بجٹ پاس کرانے میں کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے کیونکہ انکے اپنے ساتھی حکومت سے نالاں ہیں اور یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے ایم این ایز حکومت کا ساتھ نہ دیں اس پر پاکستان تحریک انصا ف کے ایک سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کسی بھی صورت عمران خان حکومت کو غیر مستحکم نہیں کریں گے بلکہ ان کے بس میں ہوا تو وہ مدد کریں گے ،پی ٹی آئی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہماری حکومت کو نہ چلنے دیا گیا تو پھر کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے،اس پر نئے الیکشن کی جانب جایا جا سکتا ہے اور اس پر وزیر اعظم سمیت دیگر رہنماسوچ بچار رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!