پنجگور ‘ تفتان میں درپیش مسائل حل کئے جائیں ‘ انجمن تاجران بلوچستان

پنجگور ‘ تفتان میں درپیش مسائل حل کئے جائیں ‘ انجمن تاجران بلوچستان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کو ئٹہ:انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا جنرل سیکرٹری حاجی اللہ داد ترین فاروق شاھوانی حاجی یعقوب شاہ کاکڑ انجمن تاجران پنجگور کے صدر حاجی خلیل دھانی انجمن تاجران تفتان کے امان اللہ محمد حسنی نقیب اللہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ پنجگور اور تفتان میں تاجروں کو درپیش مسائل کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ پنجگور چیدگی مند بلو دیگر مقامات پر پاک ایران بارڈرز کے بند ہونے سے سرحدی اضلاع میں اشیائے خورد ونوش کی قلت پیدا ہورہی عوام کے بیروزگار ہونے کیوجہ سے جرائم میں اضافہ ہورہا تفتان چیدگی بارڈرز پر سینکڑوں کنٹینرز کھڑے ہیں بارڈرز بند ہونے کی وجہ سے اب تک تاجروں کے کروڑں روپے ڈوب چکے ہیں اور حکومت بھی ایک کثیر رقم کے ریونیو سے محروم ہوئی اس کے علاوہ جو پنجگور بازار اور دیگر سرحدی شہروں کا اہم مسئلہ ہے وہ اشیائے و خورد ونوش ہے سرحدی شہروں میں کوگنگ آئل بسکٹ و دیگر اشیائے خورد نوش پاکستانی کے مقابلے میں ایرانی اشیا بہت سستی بھی پڑتی ہیں اور کوالٹی بھی اچھی ہوتی ہے اور شروع سے ہی ان علاقوں میں اشیائے خوردونوش ایرانی استعمال ہورہی ہیںمگر اکثر اوقات کئی ہفتوں بارڈرز بند ہونے کی وجہ سینکڑوں کنٹینرز بارڈر پر پھنس جاتے ہیں جس سے خوردنی اشیا کے خراب ہونے سے تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے تو دوسری جانب پنجگور ماشکیل تفتان مند بلو دیگر شہروں اور قصبوں کو اشیائے خوردونوش کو قلت کا سامنا کرناپڑتا ہے عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ بالخصوص اشیائے خوردونوش کو بغیر کسی روک ٹھوک کے چھوٹی گاڑیوں میں سرحدی شہروں تک آنے دیا جائے جن کو آئے روز سیکورٹی فورسز روک لیتے ہیں جو عوام اور فورسز میں بدگمانیاں پیدا کرنے کا سبب بن رہا بیان وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بلوچستان کے سرحدی مسلوں کا حل اسلام آباد میں بیٹھے ان ممبران اسمبلی اور بیوروکریسی کے ذریعہ حل نہیں نکال سکتے جن کو نہ بلوچستان کی تاریخ کا پتہ ہے نہ جغرافیہ نہ ھی معروضی حالات کا پتہ ہے بلوچستان کے بارڈر ٹرید اور سرحدی اضلاع کے مسلوں کو حل کرنے کیلئے مقامی عوامی قبائلی سماجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں جائیں جن پر عوام کا اعتماد ھو تفتان کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ آج سے بیس سال پہلے تفتان بازار بلکل بارڈر سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا مگر ٹاون کمیٹی نے بارڈر سے کوئی ایک کلو میٹر کے فاصلہ پر نیا بازار بنایا اور دکانداروں سے بہت سے وعدے وعید کرنے کے بعد پرانا بازار خالی کرکے نئے بازار میں شفٹ ھونے کا کہا گیا دکاندار پرانا بازار خالی کرکے نئے بازار میں شفٹ ھوگئے پرانا بازار مسمار کردیا گیا تمام کوچ کمپنیوں کے دفاتر بھی نئےبازار میں شفٹ ھوگئے اور یہی سے سواریاں بٹھائی جاتی تھیں جس سے دکانداروں کا بھی فائدہ ھورھا تھا ان بیس سالوں ان سے کئے گئے وعدوں پر جن میں پرانی دکانوں کو خالی کرنے کے بدلے معاوضہ بھی شامل تھا کے سمیت کوئی وعدہ پورا نہیں کیا اور دکاندار بھی ان کے وعدوں کو بھلا چکے ہیں مگر ابھی مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت سے شخصی مفادات کیلئے مسافر بسوں کو نئے بازار سے باھر بارڈر کے قریب ویرانے میں منتقل کررہے ہیںجس سے نہ صرف مسافروں کیلئے مشکلات پیدا ہونگی بلکہ تفتان بازار کے تاجر تباہ ہوجائینگے اور پراپرٹی مالکان کی پراپرٹی کوڑیوں کے دام ہوجائیگی کیونکہ بازار کا سارا کاروبار مسافروں سے منسلک ہے بیان میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن ڈی سی چاغی سے اس مسل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسافر بس کمپنیوں کو بازار سے باہر منتقل نہ کرنے دیں بصورت دیگر دکاندار کسی بھی قسم کے احتجاج سے گریز نہیں کرینگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!