کراچی چمن شاہراہ کی تعمیر سردار اختر جان مینگل کی مرہون منت ‘ لاپتہ افراد300ہیں تو 600کہاں سے بازیاب ہوئے ‘ بی این پی

کراچی چمن شاہراہ کی تعمیر سردار اختر جان مینگل کی مرہون منت ‘ لاپتہ افراد300ہیں تو 600کہاں سے بازیاب ہوئے ‘ بی این پی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی ‘ کوئٹہ ‘ چمن شاہراہ کی فزیبلیٹی رپورٹ کی تیاری سردار اختر جان مینگل کی مرہون منت ہے اگر لاپتہ افراد کی تعداد300سے تو 600افراد کہاں سے بازیاب ہوئے صوبائی وزیر داخلہ جو بھی بنا اس نے ہمیشہ جھوٹ ہی بولا ‘ ہر الیکشن میں پارٹی ‘ بیانات ‘ جھنڈے اور آقاءبدلنے والوں کو عوام بخوبی جانتے ہیں گزشتہ دنوں مرکزی حکومت چمن تا کراچی سڑک کو دو رویہ کرنے کی فزیبلیٹی کیلئے مارچ 2021ءتک بنانے کی ہدایت کی ہے جس کے سہرا قائد سردار اختر جان مینگل اور پارٹی پر جاتا ہے پارٹی بارہا اس حوالے سے قومی اسمبلی ‘ سینیٹ ‘ حکومتی ذمہ داروں سے ملاقاتوں میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ کراچی شاہراہ کو دو رویہ کیا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے سردار اختر جان مینگل نے بجٹ سیشن میں اپنے خطاب کے دوران بھی کراچی ‘ کوئٹہ ‘ چمن شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 813کلو میٹر کے فاصلے میں کراچی سے چمن تک لسبیلہ ‘ خضدار ‘ قلات ‘ مستونگ ‘ کوئٹہ ‘ پشین اور چمن کے ضلع آتے ہیں تمام ضلعے اسی روڈ پر ہیں اس روڈ کی تعمیر1973ءمیں پاکستان ‘ ایران اور ترکی کے تعاون سے بنایا گیا تھا یہی ایک ہائی وے ہے آرسی ڈی کا نام دے دیا گیا ہے بلوچستان میں دہشت گردی سے اتنے لوگ جاں بحق نہیں ہوئے جتنے کہ اس روڈ پر حادثات سے ہوئے ہیں ساڑھے چار ہزار لوگ اس روڈ پر حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں پچھلی پی ایس ڈی پی میں ہم نے کہا خدا کے واسطے اس روڈ کو دو رویہ کیا جائے ہم چھ لائن والا موٹروے نہیں چاہئے وہ آپ لوگوں کو مبارک ہو ہم اتنے بڑے کشادہ سڑکوں پر نہیں چل سکتے اس پی ایس ڈی پی میں کراچی چمن شاہراہ کو کورونا یا ٹڈی دل کھا گیا کیا یہی بلوچستان کی احساس محرومی کو ختم کرنے کے طریقے ہیں یہ روڈ کوسٹل ہائی وے ‘ سی پیک سے جوڑتا ہے تفتان ‘ رتو ڈیرو ‘ سے بھی جوڑا ہے اس روڈ کی تعمیر کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے بیان میں کہا گیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے بھی قومی اسمبلی میں آواز بلند کی جو ریکارڈ کا حصہ ہے بلوچستان کی حکمران جماعت کریڈٹ اپنے کھاتے میں لے جاناچاہتی ہیں حالانکہ اسلام آباد کے حکمران گواہ ہیں کہ صوبائی حکومت نے کبھی بھی بلوچ اور بلوچستانی عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند نہیں کی جب بھی ملاقاتیں کیں اپنی اقتدار کو دوام دینے ‘ وازارتوں کے حوالے کیلئے کیں اب گزشتہ دنوں حکمران جماعت کے بیانات اور کریڈٹ کو اپنے لئے لے جانا بے معنی ہیں بلوچ کے عوام جانتے ہیں کہ نو مولود سیاسی جماعت اپنی مفادات کی خاطر بلند و بالا دعوے کر رہے ہیں اس کے بیانات ‘ جھنڈے ‘ آقاہر الیکشن میں تبدیل ہو جاتے ہیں ان کی سیاسی سوچ کے بارے میں بلوچستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں انہوں نے دو سالوں میں بلوچستان کے ہر طبقہ فکر کو استحصال کا نشانہ بنایا ‘ ڈاکٹرز ‘ پیرامیڈیکس ‘ صحافی ‘ ملازمین ‘ بلوچستان کے طلباءو طالبات پر لاٹھی چارج ‘ ذہنی کوفت کے سوا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا دریں اثناءبیان میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر داخلہ نے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے لسٹوں کے حوالے سے جو موقف اپنایا یقینا ہم جانتے ہیں اس سے پہلے جو بھی وزیر داخلہ بنا انہوں نے یہ کہا کہ بلوچستان میں چند ہی لاپتہ افراد ہیں بی این پی کوششوں سے موجودہ دور میں جو 6سو کے قریب لوگ بازیاب ہوئے ماضی میں اس منصب پر جو بھی براجمان ہوا انہوں نے جھوٹا ہی بولا اگر 300لاپتہ ہیں جو 600 افراد کہاں سے بازیاب ہوئے ہماری جدوجہد قومی اجتماعی مفادات کیلئے ہے ہم بلوچستان کے عوام کی آواز بن کر قومی اسمبلی ‘ سینیٹ ‘ صوبائی اسمبلی سمیت ہر فورم پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جمہور اور عوامی طاقت کے ذریعے ہمارا موقف ہمیشہ عوام کے اجتماعی مفادات کے خاطر رہ ہے آمر ہو یا سول ڈکٹیٹر کا دور ہم عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرتے ہیں چھ نکات پر عملدرآمد ہوتاہے تو یقینا بلوچستان میں احساس محرومی پائی جاتی ہے اس کے کسی حد تک خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!