مستونگ( نامہ نگار) شہید میر مولا بخش دشتی محض ایک فرد یاشخصیت کانام نہیں بلکہ ایک سوچ وفکر اور نظریہ کا نام ہےآج اگر وہ ہم سے جسمانی طور پر جدا ہیں لیکن پارٹی کارکنوں اور بلوچ قوم کے ساتھ ان کی سیاسی شعوری و فکری سوچ اور نظریاتی جدوجہد موجود ہے جو کہ ہمارے لیے مشعل راہ ہےنیشنل پارٹی مستونگ ضلعی و تحصیل عہدیداران کارکنوں اور بی ایس او پجار کے زونل عہداران اور رہنماوں نے پارٹی کے بانی رہنماء شہید میر مولا بخش دشتی کی آج 10 ویں برسی کے موقع پر اپنے جاری کر دہ بیان میں شہید کو انکی سیاسی و سماجی اور قومی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید مولا بخش دشتی ایک عہد وتاریخ ساز شخصیت کے حامل عظیم انسان اور ادیب و دانشور تھے انکی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا انھوں نے کہا کہ میر صاحب کیسیاسی و سماجی معاملات پر گہری نظر تھی سماج میں موجود تضادات کا بغور مطالعہ کرکے باریک بینی کے ساتھ اس کا حل تلاش کرتے تھے بغض و کینہ نام کی شے اس کے قریب سے بھی نہیں گزری شہید نے ہر مشکل اور کھٹن حالات کا انتہائی جوانمری سے مقابلہ کرکے تا شہادت پارٹی پروگرام اور اپنی نظریہ پر ڈ ٹے رہے ۔۔۔۔انھوں نے کھا کہ شہید مولابخش دشتی کی شہادت سے نیشنل پارٹی اور بلخصوص بلوچ قوم ایک مدبر سیاسی و قومی رہنما سے محروم ہوئے جس کی کمی آج بھی ہر سطح پر محسوس کی جارہی ہے۔۔۔ اگر سخت حالات میں شہید مولابخش دشتی کی فکر اور سوچ کو اپنایا جاتا تو آج بلوچستان اور بلوچستان کی سیاسی صورت حال یہ نہیں ہوتا بلکہ ان قوتوں کے سازشوں کو سیاسی بصیرت اور شعوری سوچ کے ساتھ ناکام کیا جاتاانھوں نے کہا کہ شہید مولابخش کھٹن حالات میں بھی ثابت قدم رہ کر شعوری و نظریاتی سیاست کو بلوچستان میں پروان چڑھایا اسی سوچ اور فکر پر کاربند رہ کر نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو شہید مولا بخش دشتی شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ شہید نسیم جہنگیان جہانگیر بلوچ شہید فدا بلوچ و دیگر اکابرین کے فلسفہ و سوچ کو سامنے رکھ کر اکیسویں صدی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر بلوچ قوم اور بلوچستان کی حقیقی نمائندگی کر کے ساحل وسائل اور قومی تشخص کے بقاء کے لیے نظریاتی جدوجہد کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ شہید میر مولا بخش دشتی کی خدمات بلوچ قوم کے لیے ناقابل فراموش ہے۔۔بیان میں نیشنل پارٹی اور بی ایس او پجار کے کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہید کے سوچ و فکر اور پختہ نظریاتی کمٹمنٹ کو أگے بڑھاکر جمہوری انداز سے بلوچ قوم اور بلوچستان کی حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھے






