جیبوں کی ترقی کو صوبے کی ترقی کہنا تیسرے درجے کی حماقت ہے‘ رحیم زیارتوال

جیبوں کی ترقی کو صوبے کی ترقی کہنا تیسرے درجے کی حماقت ہے‘ رحیم زیارتوال

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ہرنائی:پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی وصوبائی سیکرٹری سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ جیبوں کی ترقی کو صوبے کی ترقی کہنا تیسرے درجے کی حماقت ہے حساب کتاب رکھنے سے عاری عناصر جولائی کے کام کرنے کے آغاز کے دعویں میں میں کوئی صداقت نہیں صوبے کاخالی خزانہ اکتوبر میں کام کاآغاز کرسکتی پی ایس ڈی بک کی ترقیاتی سکیمات صرف بک کے صفحات کی زینت کے سوا کچھ نہیںصوبے کے پشتون اضلاع میں پولیس اور لیویز پرحملے چمن سرحدی تجارتی کاروبار بند کرنا صوبے کے مائینز پر قبضے اور تمام صوبائی اور قومی شاہراہوںپرلوگوں کوتنگ کرنے کے لئے ایف سی کے ناکے ہمارے عوام کو خوفزادہ ،مفلوج اور بیروزگار کرنے کی سازش ہیں انہوں نے کہاکہ ہرنائی کوئل مائینز ، ومالکان کوحراساں کرنے کے بعد بند کی گئی ہے مائینز کانکن قتل ہورہے ہیں اور اغواءکیاجارہاہے حالیہ دنوں مانگی اور زردآلو کے کوئلہ کانوں کو جلایا گیا اور کانکن اب تک اغواءکاروںکے پاس ہیں انہوں نے کہاکہ ہرنائی کا تمام شہر، زرمانہ، سورپل کے بہہ جانے کا سخت خطرہ موجود ہیں ہرنائی کے باسیوں سخت پریشانی ،خوف اور اضطراب پایا جاتا ہے اور بند کی تعمیر کرپشن وکمیشن کی نظر ہوچکا ہے انہوں نے کہاکہ پشتونخوامیپ کے عوام دوست ، وطن دوست سیاسی جمہوری سیاست کو برا بھلا کہنا والے اپنے گریبان میں جھانکیں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی ون مین ون ووٹ پر عمر قید کی سزاہ پوری نہ کرتے تو آج اسمبلی اور وازرت نہ ہوتی انہوں نے کہاکہ پشتونخوامیپ کی تاریخ ہے کہ غیروں کے مقابلے میں وطن اور اسکے آزادی کے سربازوں کی صف کی آبیاری کرتے ہیں اور ملک بننے کے بعد آمریت کے مقابلے میں جمہوری صف کی آبیاری میں ابتک مصروف عمل ہیں پارٹی لیڈر شپ اور پارٹی کے تمام کارکنوں کواپنے مثبت تعمیری جمہوری کردار پر فخر ہے انہوں نے کہاکہ عظیم پشتون قوم اور پرعزم پرافتخار ماضی اسلئے قومی پشتون رویات کے قوم کے باسیوں کے ساتھ نازیبا زبان کااستعمال ان سماجی ترقی معاشرتی اقدار کی پامالی کے سوا کچھ نہیں ملک میں قوموں کی برابری پارلیمنٹ کی بلادستی آئین وقانون کی حکمرانی پشتون ،بلوچ مشترکہ صوبے میں زندگی کے تمام شعبوں میں پشتون بلوچ برابری کے سیاسی جمہوری مطالبات پر غیروں کے کہنے پر سیخ پا ہونا غیر کی نمک حلالی تو ہوسکتی وطن کی خدمت نہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!