اسلام آباد: ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ ایس او پیز کا خیال نہ رکھا تو عید پر کورونا کیسز بڑھ سکتے ہیں،، ایران سے کیسز آنے کی وجہ سے بلوچستان حکومت کا سب سے پہلے کورونا سے واسطہ پڑا،عید پر ایس او پیز کا خیال نہ رکھنے سے 1 لاکھ اضافی کیسز رپورٹ ہوئے اور 450 فیصد اضافہ ہوا، بڑی عید پر بھی اس کا پھیلا ہوسکتا ہے۔ نیشنل پریس کلب میں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شہوانی نے کہا کہ آج سے ساڑھے چار ماہ قبل جب کورونا کے کیسز سامنے آنے پر ڈاکٹر ظفر مرزا،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ میں بتائے،بلوچستان حکومت کا سب سے پہلے کورونا سے سامنا ہوا تھا ،ایران سے آنے والے زائرین میں کورنا کی تشخیص پہلے ہوئی تھے ، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایس او پیز اور لاک ڈاو ن پر ومل پیرا ہوا ،کورونا کی دنیا بھر میں امپورٹ کے بعد لوکل ٹرانسمیشن شروع ہوئی، کورونا عید کے مقدس تہوار کے دوران زیادہ پھیلا،چوبیس مئی سے چوبیس جون تک ایک لاکھ نوے ہزار سے تجاوز کر گئے،عید سے قبل 10500 کیسز تھے،مئی کے مہینے میں 41900 کیسز رپورٹ ہوئے عید کے موقع پر ایس او پیز پر عملد در آمد نہ ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ اضافی کیسز ہوئے،450 فیصد اضافہ ہوا،ہمیں اس عید پر زیادہ کیسز بڑھنے کا خطرہ ہے ، مویشی منڈیوں، بازاروں میں عید الاضحی کے موقع پر زیادہ رش ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کا خیال نہ رکھا گیا تو کیسز میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے ،عید کے بعد ڈیڑھ ماہ میں 7300 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ، انہوں نے کہا کہ عید کا تہوار ہمارے لئے باعث رحمت ہے، مقدس ہے لیکن وبائی کیفیت میں ہمیں خیال رکھنا ہو گا، اب تک گیارہ دنوں میں تین ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جس میں سے چھ سو کیسز مثبت آئے، گزشتہ روز 323 ٹیسٹ کیے جس میں سے 29 کیس نکلے بلوچستان کے حالات بہتر ہو رہے ہیں لیکن احتیاط ضروری ہے،ہمارے ملک میں ٹیسٹ کٹس کی کمی کے باعث بہت سی مشکلات کا سامنا تھالیبارٹریاں بھی کم تھی، ہم بلوچستان کے عوام کو گزارش کر رہے ہیں کہ وہ سیمپلز دیں، 126 لوگوں کی بلوچستان میں اموات ہوئیں ،90 لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے سیملز فرام نہیں کیے ، یہ 90لوگ 126لوگوں کے علاوہ ہیں،3594 لوگ گھروں میں قرنطینہ ہیں، 16 لوگ ہسپتال میں ہیں جن میں سے دس لوگ تیزی سے ریکقر کر رہے ہیں ، بلوچستان حکومت نے عید الاضحی کیلئے ایس او پیز بنا لی ہیں مجسٹریٹ نگرانی کریں گے، جبکہ مویشی منڈیو میں بچوں اور بزرگوں کے داخلہ پر ممانعت ہو گی ،ڈس انفیکٹ کیلئے سپرے کیے جائیں گے ،پورے ملک میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا لیکن بلوچستان میں اس کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی،بیس سے چالیس سال کے لوگوں میں چوالیس فیصد کیس رپورٹ ہوئے ،بزرگوں میں بیس فیصد اور بچوں میں دس فیصد کیس رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں لوگوں سے گزارش کی گئی کہ عید کے موقع پر۔ گاو ں دیہاتوں میں نہ جائیں مگر لوگوں نے بے احتیاطی کی ،پھر بھی حکومت بلوچستان نے قابو پایا ،پورے بلوچستان میں 68 قرنطینہ سنٹرز قائم کیے گیے ،کٹس کی کمی ہونے کے باوجود وقتا فوقتا فراہمی جاری رکھی حالانکہ قرنطینہ کا انتظام کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی مگر ان کی گزارش پر بلوچستان نے بہتر انتظامات کیے۔لیاقت شہوانی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بھر پور تعاون کیا وزیر اعظم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے وزیر اعلی جام کمال سے ملاقات کر کے بلوچستان حکومت کے مطالبات پر نظر ثانی کی اس کے علاوہ کوئٹہ کراچی شاہراہ جہاں بہت سارے حادثات پیش آتے ہیں، ماضی می حکومتوں نے اس پر کان نہیں دھرے لیکن اس پر ابھی توجہ دی جا رہی ہے اس کی فزی بلٹی رپورٹ بنا کر مارچ تک پیش کر دی جائے گی،جلد ہی اس پراجیکٹ پر کام بھی شروع کر دیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ آئندہ چھ فیصد وفاقی نوکریوں کے کوٹہ پر بھی توجہ دی جائے گی ،بلوچستان میں احساس محرومی ہے، انڈسٹریز نہیں ہی ذرائع نہ ہونے کے باعث نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لے کر گھومتے ہیں، اگلے سال بلوچستان کیلئے چالیس ہزار نوکریوں ہموار کی جائے گی،ماضی کی حکومت نے سی پیک میں بلوچستان کو ترجیح نہیں دی مگر وزیراعظم عمران خان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بلوچستان کو سی پیک میں اپنی ترجیحات میں شامل کیا ، بلوچستان حکومت پر کرپشن کا جو داغ تھا وہ بھی موجودہ حکومت نے مٹا دیا، آج بلوچستان کا نام گڈ گورننس کے ساتھ لیا جاتا ہے،بلوچستان کی تاریخ کا پہلا کینسر ہسپتال بنایا جا رہا ہے منرل کے حوالے سے بھی کام کیا جا رہا ہے ۔ لیاقت شہوانی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم اور وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کا ویژن تھا سمارٹ لاک ڈاو ن اور اس پرعمل کرتے ہوئے پاکستان نے اس وبا پر کافی حد تک قابو پایا ہے،کام بہت ہیں لیکن وسائل کی کمی ہے مگر پھر بھی ہم اپنی طرف سے بہتر سے بہتر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،وفاق سے بلوچستان کے اچھے تعلقات رہے ہیں اور آئندہ بھی بلوچستان صف اول کا کردار کرے گا ،کورانا وبائی مرض کے باعث لاک ڈان کے دوران ہم نے 94 کروڑ کے راش کی تقسیم کی اور کورونا سے گھروں میں قرنطینہ ہونے والے افراد کیلئے امیونٹی بوسٹنگ پیکج تشکیل دیا جارہا ہے ، تما م پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ خوشخبری ملنی شروع ہو گئی ہے، کورونا کیسز میں کمی ہو رہی ہے۔ ایس او پیز کا خیال کیا جائے عید کے موقع پر جتنی زیادہ احتیاط کر سکتے ہیں کریں، ورنہ دوبارہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، عوام کا تعاون رہے گا تو بہت جلد اس وباسے مکمل آزادی ہو جائے گی۔
