امریکی سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ایک مجرم کو سزائے موت بھی دے دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے سزائے موت پانے والے چار مجرموں کا مقدمہ پیش ہوا تھا، جن میں سے 3 کو اس ہفتے اور چوتھے کو اگلے ماہ سزائے موت دی جانی ہے۔منگل 14 جولائی کو ہونے والی سماعت میں امریکی سپریم کورٹ نے زیریں عدالت کے سزائے موت پر عمل درآمد کو موخر کرنے کے فیصلے کو مسترد کیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ موت کی سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ اس موقع پر 5 ججز نے فیصلے کے حق میں اور 4 ججز نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد انڈیانا کی وفاقی جیل میں ڈینیس لیویس نامی مجرم کو انتہائی طاقتور خواب آور پینٹو بار بیٹال کا ڈوز دے کر موت کی ننید سلا دیا گیا۔ اس الزام ثابت ہوا تھا کہ اس نے سال 1996 میں اپنے خاندان کے 3 افراد کو قتل کیا تھا، جس میں 8 سال کی بچی بھی شامل تھی۔
عدالت کے روبرو چاروں مجرموں کے وکلا کا استدلال تھا کہ پینٹو بار بیٹال سے تنفس پر دباو پڑتا ہے اور ڈوبنے یا دم گھٹنے کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔لی کو اس سے قبل 13 جولائی کو سزائے موت دی جانی تھی، تاہم عمل درآمد سے چند گھنٹے قبل ایک وفاقی جج نے ابتدائی رولنگ دے کر اس پر عمل درآمد کو روک دیا۔ جج کا کہنا تھا کہ اسے اس بنیاد پر موخر کیا کہ عدالت کو مزید وقت چاہیے کہ وہ یہ تعین کر سکے کہ سزائے موت پر عمل درآمد کا طریقہ کہیں آئین میں ظالمانہ اور غیر معمولی سزا کے خلاف دیئے گئے تحفظ سے متصادم تو نہیں ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایک اندازے کے مطابق امریکا میں اب تک تقریباً ایک سو افراد کو اسی طریقے سے موت کی سزا دی جا چکی ہے۔ واضح رہے کہ امریکا میں 1988 میں موت کی سزا بحال ہوئی تھی اور اس کے بعد وفاقی حکومت نے 3 افراد کو سزائے موت دی۔ آخری سزائے موت سال 2003 میں دی گئی تھی






