20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ، آن لائن کلاسز کا اجراء سمجھ سے بالاتر ہے ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن

20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ، آن لائن کلاسز کا اجراء سمجھ سے بالاتر ہے ، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

مستونگ(نامہ نگار)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چئیرمین نذیر بلوچ وائس چئیرمین خالد بلوچ سی سی کے ممبر امیر ساقی بلوچ حفیظ بلوچ کوئٹہ زون کے آرگنائزر صمند بلوچ عاطف بلوچ عزیز بلوچ عبدالرحمن بلوچ ظاہر بلوچ و دیگر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے کوٹہ پر وفاقی اداروں جعلی ڈومیسائل کے زریعے ہزاروں آسامیوں پر دیگر صوبوں کے 22 ہزار سے زائد لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا بلوچستان کے بے روزگار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ظلم و زایادتی اور مزاق کے مترادف ہے اور یہ نا روا اقدام 73 سالہ محرومیوں اور محکومیوں کا تسلسل ہے بلوچستان میں غربت بھوک و افلاس بےروزگاری اور پسماندگی اپنے عروج پر ہے لیکن حکمرانوں اور انکے فرمانبردار کرپٹ آفیسران کی ملی بھگت سے وفاق میں بلوچستان کے پوسٹوں پر تعیناتی سے صوبے کو مزید احساس محرومی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کلب مستونگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بی ایس او کے رہنماوں نے کہا کہ مستونگ سے چار سو سے زائدجعلی ڈومیسائل کا سامنے آنے کے بعد مزکورہ افراد کے تفصیلات پبلک نہ کرنا انتہائی تشویشناک اور قابل مزمت امر ہے۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان کے حق و حقوق پر دیگر صوبوں کے لوگ بر جماں ہے یہ وہی تسلسل ہے جو 73 سالوں سے بلوچستان کے ساتھ رواں رکھاگیاہے بلوچستان کے ساتھ کوئی مخلص نہیں ہے.بی ایس او کے مرکزی رہنماوں نے کہاکہ کوروناوبا ملک سمیت پورے دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیل گیا اس دوران دیگر ممالک نے اپنے تعلیمی نظام کو بچانے کیلئے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع کیا مگر بلوچستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں انٹرنیٹ سسٹم کا 3Gاور 4G کا نام و نشان تک نہیں اور ایسے میں حکومت نے گراونڈ کو دیکھے بغیر بلوچستان کے طلبا و طالبات پر آن لائن کلاسز کا فیصلہ مسلط کیا۔انھوں نے کہاکہ جن سٹیز میں انٹرنیٹ ہے مگر ویاں پر انٹرنیٹ سسٹم کی سروس انتہائی ناقص ہے اور وہ اس لائق نہیں کہ طلبا آئن لائن کلاسز کیلئے ویڈیو لنک استمال کرسکے۔انھوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی آئن لائن کلاسز کے حوالے سے مسلط کردہ فیصلے سے بلوچستان میں مزید پسماندگی میں اضافہ اور تعلیمی نظام کو تبائی کی جانب گامزن کر دیا ہے انھوں نے کہاکہ آن لائن کلاسز کے شروع کرنے کے فیصلے سے پہلے انٹرنیٹ کی سہولیات بحال کی جاتی پھر آن لائن کلاسز شروع کئے جائے۔دوسری جانب بلوچستان کے اکثر علاقوں میں 18 سے 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ان حالات میں آن لائن کلاسز کا اجراء سمجھ سے بالاتر ہےنھوں نے کہاکہ بی ایس او نے ایچ ای سی کے آن لائن کلاسز کے فیصلے کو پہلے بھی مسترد کیاہے اور آئندہ بھی اس کی سخت مخالفت کرینگے۔اگر حکومت و ایچ ای سی نے اپنے اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کی تو اپنے ہم اپنےاحتجاجی تحریک میں مزید تیزی لائینگے۔انھوں نے کہاکہ بلوچستان کا سب سے بڑا ادارہ پبلک سروس کمیشن گزشتہ چار مہینوں سے سربراہ سے محروم ہے جب ایک پرفشنل ادارہ بغیر سربراہ کے ہے تو یہ حکمران بلوچستان میں کیا خاک تبدیلی لائنگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!