کوئٹہ (بیورو رپورٹ ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے ثناءبلوچ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ترقی کا کوئی مخالف نہیں ہے ہم صوبے کی ترقی اور یہاں کے ساحل اور وسائل کو اصولوں کے مطابق اپنے عوام کے لئے استعمال میں لانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو قدرتی معدنیات ، طویل ساحل اور وسائل سے نوازا ہے ہماری آبادی جو بمشکل سوا کروڑ کے قریب ہوگی اس کے اسی فیصد عوام پانی سے محروم ہیں ہمارے تمام مسائل کی وجہ شفافیت نہ ہونا ہے بلوچستان کے وسائل اور معدنیات کو بروئے کا ر لانے کے لئے فیصلے اس ایوان میں ہونے چاہئیں اگر بلوچستان کے منتخب عوامی نمائندوں کو شامل کئے بغیر ایسے فیصلے کئے جاتے ہیں تو کل ان پر عملدرآمد کی ضمانت کون دے گا اخبارات کے ذریعے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ سیندک منصوبے کی لیز میں پندرہ سال کی توسیع کردی گئی ہے جبکہ کچھ حلقے کچھ اور کہہ رہے ہیں یہ ایوان صوبے کے منتخب نمائندوں کا ہے اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ہمیں معلومات دی جائیں انہوںنے کہا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ اس کے بچے تعلیم ، صحت سمیت دیگر سہولیات سے محروم رہیں کوئی جماعت ، کوئی سیاسی رہنمائ بھی ایسا نہیں چاہتا کہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ معدنی منصوبوں میں شفافیت لائی جائے عوامی نمائندوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ سیندک پراجیکٹ سے بلوچستان کو کیا ملے گا سیندک کی آمدنی سے سی آر سی کی مد میں صوبائی حکومت کو اب تک کتنی آمدن ہوئی اور وہ کہاں خرچ کئے گئے ملنے والی رقم کس اکا?نٹ میں رکھی گئی ہے بد قسمتی سے چاغی میں ایک پولی ٹیکنک کا ادارہ تک نہیں اس سال بجٹ میں ایک پولی ٹیکنیک منصوبے کی تعمیر کا منصوبہ رکھا گیا ہے حالانکہ سیندک منصوبے میں اتنی جگہ موجود ہے جہاں بہ آسانی دو سو بچوں کو انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم دی جاسکتی ہے جو کل دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر نہ صرف کام کرسکتے ہیں بلکہ یہاں زر مبادلہ بھی لاسکتے ہیں انہوںنے کہا کہ ماضی میں سوئی گیس منصوبے میں رائلٹی کے حوالے سے باتیں طے کرلی جاتیں تو ہماری گیس کی ہمیں صحیح قیمت ملتی وفاق آج بھی ہزاروں روپے کا گیس رائلٹی کی مد میں ہمارا مقروض ہے دوسری جانب سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے عوام تمام سہولیات سے محروم ہیں انہوںنے زور دیا کہ اگر سیندک منصوبے کے حوالے سے معاہدے میں توسیع کی گئی ہے یا کوئی پیشرفت ہوئی ہے تواس سے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔
