حکومت اپوزیشن کا عوام کی نمائندہ نہیں سمجھتی ‘ حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے ‘ جمعیت

حکومت اپوزیشن کا عوام کی نمائندہ نہیں سمجھتی ‘ حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے ‘ جمعیت

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ ‘ حاجی نواز کاکڑ ‘ عبدالوحد صدیقی و دیگر جمعیت رہنماﺅں نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ چار ماہ قبل صوبے میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فراہمی کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بہت سے لوگ بیمار ہوئے انہوں نے خود ادویات خرید کر اپنا علاج کرایا حکومت کی جانب سے انہیں ایک پینا ڈول کی گولی تک فراہم نہیں کی گئی بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام صرف اخباری بیانات تک محدود ہے اسمبلی کو بتایا جائے کہ کورونا وائرس کی مد میں اب تک صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے کتنی رقم کہاں خرچ کی وفاق سے صوبے کو کیا کچھ ملا ، این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے کو کیا کچھ دیا ڈونرز ایجنسیز نے جو امداد دی وہ کہاں خرچ ہوئی جمعیت علماءاسلام کے رہنماءایم پی اے حاجی نواز کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں پورا سسٹم یکطرفہ چل رہا ہے حکومتی بینچز کے لوگ اپوزیشن کو عوامی نمائندہ نہیں سمجھتے اور ہماری رائے کو اہمیت نہیں دیتے صوبے کے حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے سیندک لیز کے معاملے پر فوری طو رپر ایوان میں کمیٹی بنائی جائے جو اس تمام معاملے کی تحقیقات کرے انہوںنے کہا کہ غیر ضروری مد میں خرچ ہونے والے پیسوں کو اگر مائننگ کے شعبے کی بہتری کے لئے خرچ کیا جائے تو صوبہ اس شعبے میں خود مختار ہوسکتا ہے انہوںنے کہا کہ بلوچستان کو مفت بجلی فراہم کی جائے اگر سنجیدہ اقدامات نہیں ہوئے اور اپوزیشن کو دشمن تصور کیاجاتا رہا تو بلوچستان کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھیں گے انہوں نے کہا کہ زائد المعیاد ادویات اور اشیائ خرید کر انہیں بعد میں ایکسپائر ظاہر کیا جاتا ہے اور اس مد میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے جب وزیراعلیٰ حکومت ٹویٹر اور70واٹس ایپ گروپس میں چلائیں گے تو صوبے کے مسائل کیسے حل ہوں گے جو وزرائ کام کرنا چاہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ روک دیئے جاتے ہیں۔ جے یوآئی کے مولوی نوراللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب کوئٹہ میں بجلی نہیں ہے تو اندرون بلوچستان کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ہمارے صوبے میں زراعت کا دارومدار ٹیوب ویلوں پر ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں تمام فیڈروں کو پانچ پانچ برانچز میں تقسیم کیاگیا ہے اور ہر برانچ سے کئی کئی دن کے بعد بمشکل چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے جس سے زرعی شعبہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے کافی عرصہ قبل میرے حلقے میں بجلی کے کھمبے گر گئے تھے میں نے خود ایک وفد کے ہمراہ کیسکو حکام سے ملاقات کرکے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا لیکن آج تک ان کھمبوں کی مرمت نہیں کی گئی انہوںنے کہا کہ جب ہمارے صوبے میں مختلف پھلوں اور سبزیوں کی تیاری کے موقع پر ہمسایہ ممالک سے یہ تمام چیزیں منگوائی جاتی ہیں جس سے ہمارے زمیندار شدید مالی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں انہوںنے کہا کہ ڑوب بوستان ریلوے لائن 1930ئ میں بچھائی گئی تھی جس سے ہمارے لوگوں کو بڑا فائدہ ہوتا تھا مگر اس ریلوے پٹڑی کو اکھاڑ دیا گیا میں اس حوالے سے ایک گزشتہ سیشن میں قرار داد لانا چاہتا تھاجو نہ لاسکا انہوںنے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ریلوے لائن کو فوری طو رپر بحال کیا جائے۔جے یوآئی کے عبدالواحد صدیقی نے کہا کہ حکومت نے اب تک ٹڈی دل کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا تین ماہ پہلے یقین دہانی تو کرائی گئی لیکن آج تک اقدامات نہیں ہوئے اب وزیر زراعت یا محکمہ زراعت کے حکام دورے کرکے کیا کرسکتے ہیں یہ کام پیشگی حکمت عملی کے ہیں حکومت نے حکمت عملی نہیں بنائی انہوںنے کہا کہ ضلع پشین میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے ساڑھے چار کروڑ روپے دیئے گئے بتایا جائے کہ یہ پیسے کہاں خرچ ہوئے ؟ صوبے میں اس ماحول میں بھی لوٹ مار کی جارہی ہے زراعت اور معدنیات کے لئے کوئی سنجیدہ پالیسی نہیں ہے بجلی کے وولٹیج کم ہونے سے برقی آلات جل رہے ہیں انہوںنے کہا کہ سیندک میں خلاف قانون چوبیس گھنٹے معدنیات نکالی جارہی ہیں حکومت مائننگ کے شعبے کو بہتر کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے اگر حکومت سرپرستی کرے تو صوبے میں مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے حکومت اٹھارہویں ترمیم کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اختیارات کو صحیح طرح استعمال کرے اور مربوط فیصلے کرے اپوزیشن ان کا ساتھ دے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!