کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لئے دیئے گئے ریلیف پیکج سے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے نجی اور سرکاری شعبہ میں ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی اور گوادر کی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کے اکیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات عبدالرحمن بزدار، سابق چیف سیکریٹری میر احمد بخش لہڑی، چیئرمین گوادر پورٹ اتھار ٹی نصیر کاشانی اور گورننگ باڈی کے دیگر اراکین متعلقہ وفاقی وصوبائی حکام نے اجلاس میں شرکت کی، ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی شاہ زیب کاکڑ نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کرتے ہوئے گوادر ماسٹر پلان پر عملدرآمد، قواعدوضوابط وقوانین کی تیاری کے عمل، ترقی کے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، ٹاو¿ن پلاننگ، بلڈنگ کنٹرول اور دیگر متعلقہ امور پر بریفنگ دی، گورننگ باڈی کے اجلاس میں گوادر میں ہاو¿سنگ اسکیموں سےمتعلق طویل عرصہ سے تعطل کے شکار امور کا تفصیلی جائیزہ لیتے ہو? ان امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق فوری طور پر نمٹانے کی منظوری دی گیءجس سے ہاو¿سنگ اور تعمیرات کے شعبہ میں ترقیاتی عمل میں پیش رفت ہو گی گورننگ باڈی نے نجی شعبہ کے تعمیراتی عمل میں اضافہ کے لئے جی ڈی اے بلڈنگ ریگولیشن 2020ء میں ترمیم کی منظوری بھی دی جس کے تحت کیٹیگری ایک اور دوکی تعمیرات کے لئے درکار سٹرکچرل اور آرکیٹکٹ انجینئرنگ کی منظوری دو مراحل سے کم ہوکر ایک مرحلہ تک محدود ہوگی جبکہ گورننگ باڈی نے دومنازل پر مشتمل گھروں کی تعمیر کو مٹی کے ٹیسٹ سے مستثنیٰ کرنے کی منظوری بھی دی، گورننگ باڈی نے جی ڈی اے کو قانونی فرم کی خدما ت کے حصول، سی پیک کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کوسٹل ہائی وے سے نئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک سڑک کی تعمیر اور جی ڈی اے ہسپتال میں کووڈ۔ 19 کے متاثرہ افراد کے لئے دو وینٹیلیٹرز کی خرید کی ایکس پوسٹ فیکٹو منظوری بھی دی، اجلاس میں گوادر میں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے مجوزہ منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا جس کے لئے اراضی صوبائی حکومت فراہم کرے گی، منصوبے کا مقصد گوادر میں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور انہیں مراعات کی فراہمی ہے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبے پر عملدرآمد کے آغا ز کے لئے ابتدائی کاروائی فوری طور پر مکمل کی جائے، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام سے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وسائل میں بھی اضافہ ہوگا اور ادارہ مکمل طور پر خودانحصار ہوسکے گا، اجلاس میں گوادر میں نجی شعبہ میں ہاو¿سنگ اسکیموں کے قیام کے لئے کم سے کم اراضی کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جی ڈی اے کو اس ضمن میں سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، وزیراعلیٰ نے گوادر کے نئے ماسٹر پلان کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ کے لئے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے آن لائن مینیجمنٹ سسٹم کے قیام اور ون ونڈو آپریشن کے ذریعہ تعمیراتی شعبہ کو ایک چھت کے نیچے تمام سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے گورننگ باڈی کے اجلاس کے انعقاد میں اضافہ کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گورننگ باڈی کے آن لائن اجلاس کے تسلسل سے انعقاد سے متعلقہ امور کے جائزہ، ان کی منظوری اور تیزفتار انجام دہی ممکن ہوسکے گی، وزیراعلیٰ نے مستقبل میں جی ڈی اے کے ذریعہ ہاو¿سنگ اسکیموں کو گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی کے لئے منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی جبکہ انہوں نے گوادر کو پانی کی فراہمی کے مسئلے کی دیرپا بنیادو ں پر حل اولڈ ٹاو¿ن کے ساتھ ساتھ نئی آبادیوں کو پانی کی تقسیم وترسیل کے ماسٹر پلان اور واٹر پالیسی کی تیاری کی ہدایت بھی کی، ڈی جی جی ڈی اے نے آگاہ کیا کہ گوادر کو پانی کی فراہمی کا منصوبہ تین فیز پر مشتمل ہے جس میں سے پہلے فیز کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اشتراک سے مختلف ذرائع سے دستیاب پانی گوادر شہر تک پہنچانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے پانی کا مسئلہ حل کرلیا جائے گا، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر کاشانی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ زیر تعمیر گوادر نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ دسمبر 2022ء میں مکمل کرلیا جائے گا، جی پی اے کے تحت بندرگاہ پر تعمیر کئے جانے والے ڈیسیلینیشن پلانٹ سے آئندہ دو سے تین ماہ میں پندرہ لاکھ گیلن پانی روزانہ دستیاب ہوگا جبکہ گوادر پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل کے قیام کے منصوبے پر جلد عملدرآمد کا آغاز کردیا جائے گا۔
