اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کی نا اہلی کی دائر درخواست قابل سماعت سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔منگل کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان میں میں وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کی نااہلی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی ۔سماعت آغاز پر راجہ بشارت کے وکیل نے کہا کہ معاملہ اس وقت معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرالتواء ہے، درخواست گزار سیمل وحید نے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ جس پر ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا ہے کہ بیک وقت دو فورمز پر ایک ہی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔اس موقع پر درخواست گزار سیمل وحید نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ سے 62 ون ایف کا ڈیکلریشن لینے کیلئے رجوع کیا ہے جو کہ صرف عدالت کا اختیار ہے،راجہ بشارت نے کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی اور کاغزات نامزدگی میں جھوٹ بولا اور معلومات چھپا کر سپریم کورٹ کر الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کیے۔ جس پر ممبر پنجاب الطاف قریشی نے وزیر قانون کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کے اختیارات ہائی کورٹ سے رجوع پر کم ہوگئے ہیں ؟جس کے جواب میں وکیل راجہ بشارت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر سوال نہیں اٹھا رہے۔ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے جس پر ممبر الطاف قریشی نے کہا کہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں دائر ہر کیس میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا جاتا ہے۔درخواست گزار سمیل وحید نے کہا کہ کمیشن بار بار راجہ بشارت کو موقع کیوں دیتا رہا جب کہ ایف آئی اے کی رپورٹ سے اس کا جھوٹ ثابت ہو چکا ہے ؟ جس پر ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا ہے کہ جذباتی نہ ہوں موقع کسی وجہ سے ہی دیا جاتا ہے۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سیمل وحید کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔
