اسلام آباد:، بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ کلبھوشن کے معاملہ پر اجلاس چلے ،این آراو دیا جا رہا ہے ،اس سے پہلے ابے نندن اور احسان اللہ احسان کو این آر او دیا گیاعمران خان نے کہا کسی کو این آر او نہیں دوں گا سب سے زیادہ این آر او اس وزیر اعظم نے دیئے کل بھوشن کو این آر او دیا گیا ،پارلیمان کا اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس کو ایوان میں پیش کیا جاتا ہے ،حکومت نے عوام کو بتایا نا سیاسی جماعتوں کو بتایا گیا ،اس ہاو¿سز کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا راتوں رات آرڈیننس جاری کر دیا ،ہمارے احتجاج پر اب معاملہ یہاں لایا گیا ہے ،اگر آپ آئی سی جے کے قانون کو نہیں مانتے تو پاکستان کے قانون سے این آر او نہ دیں ،کل بھوشن مانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتا تھا ،یوں لگتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف این آر او کو جواز پیش کر رہی ہے،احسان اللہ احسان کس کی قید میں تھا کیسے گرفتار ہوا ،اسے دوبارہ پکڑنے کے لئے کیا جا رہا ہے ،وزیر اعظم کے خلاف پریس کانفرنس یا تقریر کرو تو احسان اللہ احسان سے دھمکی آتی ہے ،وزیر اعظم نے ہر بیان میں دہشتگردوں تک کی مخالفت یا مزاحمت تک نہ کی ،احسان اللہ احسان نے ہماری جماعت سے کیا کیا اس کا جواب نہ دیں ،اے پی ایس کے بچوں کا جواب تو دینا پڑے گا ،کل بھوشن اور احسان اللہ احسان کو بھی این آر او دیا گیا ،ہماری اور آپ کی پارٹی نے عالمی عدالتانصاف کا دائرہ کار تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا شیریں مزاری کے طنز پر بلاول نے کہا کہ ہم نے دائرہ تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا تو اس کا مطلب کلبھوشن کے لئے قانون لانا تو نہیںجہانگیر ترین ،بلین ٹری ،چینی چوری تیل چوری پر این آر او دیا جا رہا ہے مالم جبہ پر این آر او دیا گیا ہر چیز پر این آر او دیا جا رہا ہے،بلاول نے اپنی دھواں دھار تقریر کے ساتھ ہی کورم کی نشاندہی کر کے ایوان سے چلے گئے ۔اور کہا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ کلبھوشن کے معاملہ پر ایوان چلے خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن پاکستان کا دشمن ہے جو کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں ،قومی غیرت پر کسی صورت سودا نہیں کیا جائے گا،ساتھ ہی کورم کی نشاندہی پر اجلاس ایک گھنٹہ انتظار کے بعد ملتوی کر دیا گیا،پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ کل تک کلبوشن کی وجہ سے ہم پر مودی کے یار کے الزامات لگتے تھے کلبوشن پاکستان میں دہشتگردی کرتا رہا ،اب کیوں کلبوشن کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،وزیر اعظم بتائیں اب پاکستان کی غیرت کا سودا کیوں کیا جارہا ہے ،یہ قانون قبول نہیں ،کلبوشن پاکستان کا دشمن ہے ،عالمی دباو میں آکر یہ کیا ہورہا ہےآج کون ان کے آگے سجدہ کر رہی ہے حکومت کیوں ایک بھارتی جاسوس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے،کشمیر مقتل بنا ہوا ہے ہم کبھی تجارت کھول رہے ہیں کبھی کلبھوشن پر آرڈینینس نکالتے ہیں،آج کون مودی کا یار ہے،یہ قانون سازی قومی حمایت اور غیرت کے خلاف ہے، وزیراعظم بتائے کہ کیوں پاکستانی غیرت کاسودا کر رہے ہیں،پاکستان کی عزت کیوں بیچ رہے ہیں،کلبھوشن پاکستان کا مجرم ہے،اس نے اقبال جرم کیا اسے سزا دی گئی اس موقع پروفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ خدا کے واسطے میری بات تو سن لیں،یہ کیا بات ہوئی اپنی بات کرکے آپ ایوان سے چلے جائیں






