بلوچستان یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے کیس میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہونے پر دو اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کرنے جبکہ دو افسران کے انکریمنٹ روکنے کی سفارش کی ہے۔ جامعہ بلوچستان کا 88 واں سینڈیکٹ اجلاس پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ سینڈیکٹ اجلاس نے گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کے خلاف جوڈیشل انکوائری کرکے ان کے ایوارڈز اور ٹائٹلز واپس لیے جائیں۔ اجلاس نے یونیورسٹی میں جنسی ہراساں سکینڈل سے متعلق ایف آئی اے کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلے کیے۔ اس اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ، وزیراعلیٰ کی مشیر بشریٰ رند، سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، ڈاکٹرسعود تاج، محمد ایوب بلوچ، ڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ، پروفیسر باقی جتک، ڈاکٹر فرید اچکزئی اور ممبران نے شرکت کی۔ بلوچستان یونیورسٹی سینڈیکٹ نے الزام ثابت ہونے پر یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی آفیسر محمد نعیم اور سکیورٹی گارڈ سیف اللہ کو ملازمت سے برخاست اور سابق رجسٹرار طارق جوگیزئی اور سابق ٹرانسپورٹ آفیسر شریف شاہوانی کے دو دوسال کے انکریمنٹ روکنے کی سفارش کی۔ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد بلوچستان کی طلبہ اور اساتذہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے احتجاج کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد میں ہائیکورٹ کے احکامات پر ایف آئی اے نے سکینڈل کی تحقیقات کیں اور رپورٹ عدالت میں پیش کیں۔ گذشتہ برس پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آئی تھیں جس پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات شروع کیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کا کہنا تھا کہ صرف طلبہ و طالبات ہی نہیں خواتین و مرد اساتذہ کو بھی ہراساں اور بلیک میل کیا گیا۔ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن نے اس وقت کہا تھا کہ کئی متاثرہ طالبات نے آرگنائزیشن سے رابطہ کیا کہ طالبات کو خفیہ کیمروں سے بنائی گئی ویڈیوز وٹس ایپ کرکے کہا جاتا ہے کہ’ ہمارے پاس آئیں ورنہ یہ ویڈیوز عام کر دی جائیں گی یا پھر آپ کے والدین کو بھیجی جائیں گی
