عید الاضحی کی آمد ،  خریداروں کا رش بڑھ  گیا

عید الاضحی کی آمد ، خریداروں کا رش بڑھ گیا

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

مستونگ: عید الاضحی کی آمد پر بازار میں خریداروں کا رش بڑھ گیا۔منافع خور دکانداروں اور بیوپاریوں کی چاندی لگ گئی، اشیاء خوردنوش سمیت جانورں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگے، چیک اینڈ بیلنس کا فقدان،دوسری جانب بازار میں رکشوں کی بھر مار اور گاڑیوں کی غلط پارکنگ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم، انتظامیہ منظر عام سے غائبعوام کا کوئی پرسان حال نہیںتفصیلات کے مطابق عید کی آمد آمد کے۔ساتھ ہی مستونگ بازار میں خریداری و شاپنگ کا سلسلہ عروج پر ہے شہر کے علاوہ تحصیل کھڈکوچہ تحصیل کردگاپ تحصیل دشت شیرین آب کانک درینگڑھ غنجہ ڈھوری مستونگروڈ سمیت دیگر علاقوں سے ہزاروں کی تعداد لوگ عید کی شاپنگ کی غرض سے مستونگ کے مرکزی بازار کا رخ کرتے ہیں۔لوگوں کی ہجوم دیکھ کر منافع خور و زخیرہ اندوز تاجروں نے اشیاء خوردنوش کے چیزوں کے علاوہ مشروبات بسکٹ نمکو دال سبزی فروٹ سمیت دیگر کے قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر کے عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹی نے ہاتھ پے ہاتھ رکھ کر انھیں لوٹ مار کی کھلی چوٹ دے رکھی ہے۔کوئی کسی سے پوچھنے والا نہیں ہے۔علاوہ ازیں بازاروں میں عید شاپنگ کے ساتھ بکھرا منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔تاہم امسال تبدیلی سرکار کی جانب سے ضرویات زندگی کے دیگر چیزوں میں تاریخی اضافے کے ساتھ جانورں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سنت ابراھیمی کی فریضہ کو پورا کرنے کی شوق سے قربانی کی جانور خریدنے کے لیے نیو بس اڈہ میں قائم بکھرا منڈی کا رخ کرتے ہے لیکن جانوروں کی بے تحاشا قیمتوں کی وجہ سے اکثر گاہک جانوروں کو دیکھنے اور قیمتوں کی پوچھنے کی حد تک اکتفا کرکے مایوس لوٹ جاتے ہیں واضع رہے کہ امسال منڈی میں بیمار اور لاغر جانور اگر خریدنا بھی چائے تو 20 سے 25 ہزار روپے سے کم قیمت پر نہیں ملے گا جانوروں کی قیمتوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال چھوٹے طبقے کی ملازمین اور متوسط طبقے کی لوگ سنت ابراھیمی کی فریضیہ کے ادائیگی سے محروم رہ جا ئنگے۔دریں اثناء عید کے موقع پر بازار میں خریداروں کی رش بڑھ جانے اور ٹریفک کا کوئی ماسٹر پلان نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کی صورتحال انتہائی گھمبیر شکل اختیار کر چکی ہے جس سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں چنگچی رکشوں کی بھر مار ،پانی سپلائی کرنے والے ٹریکٹروں کی آمد و رفت اور گاڈیوں و رکشوں کی غلط پارکنگ کی وجہ سے بازار کے اہم شاہراوں کوئٹہ روڈ مسجد روڈ تحصیل روڈ شنگی روڈ محراب روڈ تحصیل چوک پر گھنٹوں تک بدترین ٹریفک جام رہتی ہیں جس سے لوگوں کی وقت ضائع ہونے کے ساتھ اس شدید گرمی میں عوام کو سخت ازیت کا سامنا ہے لہزا ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ عید الاضحی کے موقع پر شہر میں خود ساختہ مہنگائی کرنے والے تاجروں کے خلاف کاروائی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے ساتھ شہر میں ٹریفک جام سے عوام کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر کے تمام اہم شاہرواں کو ون وے کر کے ٹریفک اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!