اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم کے مشیر برائے امور داخلہ و احتساب شہزاد اکبر اور پارلیمانی سیکرٹری ملیکہ بخاری نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں آج دو بہت اہم بل ووٹنگ کے بعد منظور ہوئے یہ وہ قانون سازی ہے جو ہمیں گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ میں لانے کیلئے درکار ہے ،ہندوستان پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے، خدانہ خواستہ بلیک لسٹ ہوئے تو معاشی پابندیاں اور تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ان قوانین میں ترمیم ضروری ہے۔اپوزیشن کہتی ہے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قوانین پاس کرانی ہے تو نیب قانون پر بھی بات کی جائے ہم بات کرنے کو تیار ہے لیکن اپوزیشن دونوں چیزوں کا آپس میں لنک نہ کرے، ا پوزیشن کو حکومت نے مسودہ پیش کیااپوزیشن نے اپنے نیب مسودہ میں 34 تر ا میم تجویز کی اپوزیشن کی ترمیم نیب قانون پر فاتحہ پڑھنے والے بات ہے ،ہم اکراس دی بورڈ احتساب چاہتے ہیں کسی کو رعائیت دینا مقصد نہیں ہے،گاجر کھائی ہوتی تو پیٹ میں درد ہوتااس سے کھلے پھر رہے ہیں کیونکہ ہم نے گاجریں نہیں کھائیں۔ بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ آصف نے میری تقریر کے لیے رنگ سازی کا لفظ استعمال کیا اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ،میں نے قومی اسمبلی میں قوالی نہیں پکا راگ سنایاپاکستان کو کرپشن کے ناسور سے پاک کرنا پکا راگ ہے۔پاکستان کے مفاد سامنے رکھنا چاہئیے ،ہم بلیک میل نہیں ہونگے یہ قوانین پاکستان کے مفاد میں ہیں ، پاکستان کی خاطر قانون سازی مین حصہ لیں نیب قانون پر بات کرنے کو تیار ہیں۔گفتگو کا سلسلہ اپوزیشن چھوڑ کر گئی حکومت ہر معقول بات سننے کو تیار ہیں۔مسلم لیگ ن نے 2013 میں مجھے شمولیت کی دعوت دی تھی،مجھے ن لیگ کی جانب سے بلایا گیا تھامیرے پاس اس وقت پی ٹی آئی کا آپشن بھی تھا، ن لیگ نے مخھے وزارت خارجہ آفر کی تھی۔مگر میں نے عمران خان کی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بنیادی ایشوز پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خواجہ صاحب واک آﺅٹ نہ کرتے تو اپنے اعتراضات انہیں دیتے فاروق نائیک اور شیری رحمان نے ہمارے تمام اعتراضات نوٹ کیے ہیں کاش خواجہ آصف بھی ہماری پوری بات سنتے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلاول نے کلبھوشن پر جو گفتگو کی مجھے لگتا ہے کہ وہ حقائق سے آشنا نہیں۔ ھم نے جنیوا کنونشن کے تحت بھارت کو کونسلر رسائی دی۔ ہائی کورٹ میں کلبھو شن کو اپیل کا حق تھا جو اس نے نہیں حاصل کیا۔ ھم نے صرف آئی سی جے کے تقاضے پورے کیے ہیں۔ بلاول میرا بچہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں اسے کچھ کہنے سے پہلے سمجھنا چاہئیے۔ معان خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف خاندان کو ٹی ٹیز ہمارے دورے حکومت میں نہین لگی ان کے ہونہار سپوت یہ ٹی ٹیز لگواتے رہےان چیزوں کیوجہ سے ہم گرے لسٹ میں گئے ہماری حکومت کو فیٹف کی گرے لسٹ کے چیلنج کا سامنا تھاایسا کوئی قانون نہیں تھا ملک میں جس کے تحت ان لوگوں کو پکڑا گیا آج کوئی ذاتی فائدے کا قانون منظور نہیں کروا رہے تھے۔آج قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم نے کلبھوشن پر پورا لیکچر دیا یہ کلپ تو آئی سی جے میں دینا چاہیے کہ کلبھوشن کے ہمدرد اسمبلی میں موجود ہیں ٹیرر فنانسنگ کے جرم کی سزاﺅں کو سخت کیا گیا ہے باہمی اشتراک کے قانون پر اپوزیشن اتفاق نہیں کر رہی قانون کے تحت اتھارٹی بنائی جائے گی جو اندرون و بیرون ملک روابط رکھے گی قانون بن گیا تو کن لوگوں کی معلومات مل سکیں گی وہ سب کو معلوم ہیں اپوزیشن کا سارا غصہ اپنے نیب ڈرافٹ کی وجہ سے ہے۔قومی اسمبلی میں پیش کے گئے حالیہ بلوں پر اپوزیشن نے 34 ترامیم نہیں بلکہ 34 ٹانگے لگانے کی کوشش کی اپوزیشن کی ترامیم این آر او نہیں بلکہ این آر او پلس پلس ہے اس پر دستخط کر دیں تو راوی چین ہی لکھے گا اور ملک میں امن ہوگا نیب آرڈیننس میں 1997 کے احتساب ایکٹ کا نام ہی تبدیل کیا گیا تھا اپوزیشن چاہتی ہے نیب قانون کا اطلاق 1999 سے ہو ایسا ہوا تو چوہدری شوگر مل کیس ختم ہو جائے گااپوزیشن کہتی ہے ایک ارب سے کم کی کرپشن پر کیس نہ بنے ، منی لانڈرنگ کا جرم نیب سے ختم کر دیا جائے۔ایف اے ٹی ایف کہتا ہے منی لانڈرنگ پر سخت کی جائے۔ منی لانڈرنگ کو نکالا تو شہباز شریف اور زرداری کے کیسز ختم ہوجائیں گے ۔فریال تالپور اور خواجہ آصف کے بھی منی لانڈرنگ کیسز ختم ہو جائیں گے ۔ اپوزیشن کہتی ہے بے نامی دار میں اہلیہ اور بچے شامل نہیں ہونگے۔اپوزیشن چاہتی ہے بیوی بچوں کے نام پر جتنی مرضی کرپشن کی جائے جائز ہو جا ئے ۔قرضہ معافی اور جان بوجھ کر دیوالیہ ہونے پر بھی کیس نہ بنے۔ 1999 سے پہلے کی کرپشن حلال قرار دیدی جائے یہ بھی تجویز دی گئی کہ پانچ سال بعد کرپشن سامنے آنے پر کارروائی نہیں ہو سکے گی۔آمدن سے زائد اثاثہ جات پر کیس بنانے کو بھی ختم کرنے کا کہا گیا ۔یہ ترمیم مان لی تو نوازشریف، شہباز شریف، جاوید لطیف، مریم سمیت کئی لوگ باہر آ جائیں گے۔اپوزیشن چاہتی ہے نیب سزا کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے تک نااہلی نہ ہو۔ پہلے کی طرح جیل سے ہی الیکشن لڑ کر حکومت بنائے۔نااہلی کی مدت بھی دس کی جگہ پانچ سال کرنے کی تجویز اپوزیشن نے دی ہے۔ ہمیں ذاتی مفاد کو الگ رکھ کر قانون سازی کرنا ہوگی اپوزیشن کی ترامیم کو عدالت ایک دن بھی برقرار نہیں رکھے گی۔ شہزاد اکبر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم کے مشیران سے استفعی لیا نہیں گیا انہوں نے خود دیا ہے۔ اگر کسی میڈیا پرسن کے پاس ان مشیر صاحبان کی کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو وہ مجھے دیں ان کا نام صیغہ راز میں رکھتے ہو ئے کروائی کی جا ئیگی






