لاہور : احتساب عدالت لاہور نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی گئی ۔ فصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت ہوئی، احتساب عدالت کے جج امجد نذیرنے کیس کی سماعت کی ، اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی شہبازشریف عدالت کے روبروپیش ہوئے،احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آج ہر صورت پیش ہونے کا حکم دیا تھا ،عدالت نے استفسار کیاکہ حمزہ شہبازکو ابھی تک کیوں پیش نہیں کیاگیا ؟،جیل حکام نے کہاکہ حمزہ شہبازراستے میں ہیں کچھ دیر تک پیش ہو جائیں گے ۔
وکیل امجد پرویز نے کہاکہ آج صدر پاکستان نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایاہے ،میری درخواست پر شہبازشریف عدالت کے رو برو پیش ہوئے،رمضان شوگرملزکیس میں فردجرم عائدنہ کی جائے،فاضل جج نے کہا کہ آپ کے پاس تمام قانونی حقوق ہیں،آپ استعمال کرسکتے ہیں، وکیل صفائی نے کہاکہ مجھے فردجرم کی گراؤنڈزنہیں دی گئیں، فردجرم کی گراؤنڈزدیکھ کرقانون کے مطابق اپناحق استعمال کرتا۔ عدالت نے کہاکہ آج فردجرم عائد ہونی ہے ،حمزہ شہباز آتے ہیں تو کارروائی کرتے ہیں ،وکیل نے کہاکہ شہباز شریف عدالتی ریکارڈ کیلئے پیش ہوئے،فردجرم کے حوالے سے ابھی دلائل دینے ہیں ، شہبازشریف نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے اسلام آباد جانا ہے جانے کی اجازت دے دیں، عدالت نے کہاکہ آج آپ پرفرد جرم عائد ہونی ہے ،آپ کے وکیل اس پر بحث کرناچاہتے ہیں،اگرآپ کے وکیل بحث نہیں کرتے توفردجرم عائد کردیتے ہیں ،فاضل جج نے کہاکہ شہبازشریف پر پہلے ہی فردجرم عائد ہے ضمنی ریفرنس اب آیا جس میں فردجرم عائد ہونی ہے ۔وکیل امجد پرویز نے کہاکہ شہبازشریف پر کرپشن اورکرپٹ پریکٹسز کاجھوٹا الزام لگایا گیا،لاہورہائیکورٹ نے ضمانت کے فیصلے میں کہا شہباز شریف کیخلاف ریکارڈ پر کوئی ثبوت نہیں ،چنیوٹ میں گندانالہ مقامی ایم پی اے نے تعمیرکرایا،گندے نالے کی قانون کے مطابق منظوری دی گئی،وکیل شہبازشریف نے کہاکہ نیب نے 161 کاکوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا،یہ سیاسی کیس ہے اور بدنیتی پر مبنی معاملہ ہے ۔ عدالت نے کہاکہ کیس بہت دیر سے فرد جرم کی کارروائی کیلئے فکس ہے ،آپ نے 10 گھنٹے بحث کرنی ہے ، ہم سنیں گے آپ تقریباً 80 فیصد دلائل تو دے چکے ہیں ، وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ تیاری کیلئے وقت دیاجائے،عدالت نے کہاکہ پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے ، وکیل حمزہ شہباز نے کہاکہ صرف الزامات لگانے سے کیس نہیں بنے گا، حمزہ شہباز اپوزیشن لیڈر ہیں آج فردجرم عائد نہ کی جائے ،عدالت نے کہاکہ 6 ماہ کاعرصہ ہو گیا آپ کی ابھی تک تیاری ہی نہیں ہو سکی ، فرد جرم عائدہونے کے بعد کوئی بھی درخواست جمع کرائی جاسکتی ہے، وکیل نے کہا کہ نیب ایسے کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکا جس کی بنیاد پر فردجرم عائد کی جاسکے ۔ عدالت نے دونوں کے وکیل کی فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے شہبازشریف اورحمزہ شہباز پر فردجرم عائد کردی، تاہم دونوں ملزموں نے صحت جرم سے انکارکردیا، عدالت نے آئندہ سماعت پر ریفرنس کے گواہوں کو طلب کرلیا۔
