ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری

ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف چینی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک اور ملٹی پرپز میسیجنگ ایپ وی چیٹ پر پابندیوں سے متعلق 2 مختلف حکم نامے جاری کردیے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 اگست کو ٹک ٹاک پر مستقبل میں پابندیوں سے متعلق جب کہ اسی دن ہی وی چیٹ پر بھی پابندیوں سے متعلق علیحدہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے ٹک ٹاک سے متعلق صدارتی حکم نامے کے مطابق اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو نہیں بیچا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔ جاری کیے گئے حکم نامے چینی ایپلی کیشنز کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، جس کے بعد اگر وہ کسی بھی امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو دونوں ایپس امریکا میں بند ہوجائیں گی۔ حکم نامے کے مطابق آئندہ 45 دن تک ٹک ٹاک اور وی چیٹ اپنی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھ سکیں گی لیکن 15 ستمبر کے بعد اگر وہ معاہدہ نہ کر پائیں تو انہیں بند کردیا جائے گا۔ ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں صرف امریکی حکومت میں ہی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کے اثرات دونوں چینی ایپس پر دنیا کے کسی دوسرے ملک کے حوالے سے نہیں پڑیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دونوں حکم نامے ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب کہ پہلے ہی وہ دونوں ایپس کے خلاف سخت کارروائی اور پابندی کا عندیہ دے چکےتھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا عندیہ دیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ نے چینی ایپ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ بل گیٹس کی کمپنی مائیکرو سافٹ نے گزشتہ ہفتے ہی بتایا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کو خریدنے کے حوالے سے امریکی صدر اور ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی سے مذاکرات کر رہے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ معاملات 15 ستمبر تک حل ہوجائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!