اسلام آباد : وفاقی وزیراطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ مریم نواز کو اپنے کیے پر نادم ہونا چاہیے، مسلم لیگ (ن) کو لوٹ مار کا جواب دینا ہوگا،معاشی پہیہ دوبارہ چلنا شروع ہو چکا ہے،ٹیکس محاصل ہدف سے 300ارب روپے زیادہ اکٹھا کیے گئے،وزیراعظم کی اخراجات میں کمی کی پالیسی اور حکومت خرچے کم ہونے سے مالی خسارہ ایک فیصد کم ہوا ہے،کورونا ایسی وبا تھی جس سے بہتر طور پر نمٹا اور وزیراعظم دباو¿ کے باوجود ڈٹے رہے، ایک ادھ صوبے سے مخالفت کے باوجود اپنے فیصلے میں ثابت قدم رہے ،سخت لاک ڈاو¿ن کا نعرہ لگانے والے آج نظر نہیں آرہے،14اگست بھرپور طریقے سے منایا جائیگا،سعودی عرب بڑا قریبی برادر ملک ہے جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، تعلقات کو شکوک وشہبات کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ منگل کو وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ حکومت کے 2سال مکمل ہونے پر مشیر خزانہ نے کابینہ کو اقتصادی صورتحال پر بریفنگ دی ۔ شبلی فراز نے کہاکہ مالیاتی خسارہ اس وقت 8.1فیصد ہے ،توقع تھی کہ مالیاتی خسارہ 9.1فیصد رہے گا۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ جاری مالیات کے خسارے میں2سال میں 17ارب ڈالر کی کمی کی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ حکومت ملی تو جاری مالیاتی خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے سال کم کرکے 13 ارب کردیا گیا اور گزشتہ مالی سال میں 3 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں، اس کی وجہ ترسیلات، اسٹیٹ بینک کے ذخائر اور برآمدات بھی ہیں۔انہوںنے کہاکہ برآمدات بڑھانے اور غیر ضروری درآمدات میں کمی کی پالیسی اپنائی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب ڈالر سے بڑھ کر 12.5ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ میں ایک اعشاریہ 2 کھرب، بجلی، گیس، ٹیوب ویل میں سبسڈی دی تھی اور قرضہ جات سہولت دی گئی، اسی طرح فرٹیلائزرز پر بھی سبسڈی دی گئی۔حکومت کی ایک سال کی کارکردگی کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ہم نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں تک منظم اور شفاف طریقے سے پیسے پہنچائے۔انہوںنے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 50لاکھ خاندانوں تک مالی امداد پہنچائی گئی ،تعمیراتی شعبے کیلئے موجودہ حکومت نے تاریخی ریلیف پیکج دیا۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں بحال ہونے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔شبلی فراز نے کہاکہ جس طرح حکومت نے کورونا وباءسے نمٹا اس کی دنیا میں مثالیں دی جا رہی ہیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ سخت لاک ڈاو¿ن کا نعرہ لگانے والے آج نظر نہیں آرہے،اللہ کے فضل سے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں ہمارے ملک میں وباءسے بہت کم نقصانات ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ خوشی کی بات یہ ہے کہ معاشی پہیہ دوبارہ چلنا شروع ہو گیا ہے،ٹیکس محاصل ہدف سے 300ارب روپے زیادہ اکٹھا کیے گئے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہونے سے ایک ماہ کے دوران برآمدات میں اضافہ ہوا ،معیشت میں بہتری سے سٹاک ایکس چینج میں مسلسل استحکام آ رہا ہے۔شبلی فراز نے کہاکہ میڈیا کے واجبات کے ادائیگی کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا،میڈیا کو 891ملین روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ سی ڈی اے کی 450ارب روپے مالیت کی اراضی وا گزار کرائی گئی۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہاکہ سری نگر ہائی وے پر تجاوزات کا خاتمہ کر کے شجر کاری کی گئی،چیئرمین سی ڈی اے کو کچی آبادیوں کو سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی گئی۔شبلی فراز نے کہاکہ شاہد محمود خان کو ایم ڈی پارکو تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔ انہوںنے کہاکہ 14اگست بھرپور طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہمیں پہلی دفعہ ایسا لیڈر ملا جس کا اپنا کوئی ذاتی کاروبار نہیں۔انہوں نے کہاکہ یوٹیلیٹی اسٹور کو بھی سبسڈی دی جس کا مقصد غریبوں کو سستے داموں اشیا کی فراہمی تھی، تعمیرات کے شعبے میں آسانیاں اور مراعات دینے کے لیے اقدامات کیے۔شبلی فراز نے تعمیرات کے شعبے میں غریبوں کے لیے آسانیاں رکھی گئی اور حکومت کی طرف سے سبسڈی دی گئی اور بلڈرز کو ٹیکس میں چھوٹ دی۔ ایک سوال پرانہوںنے کہاکہ سعودی عرب بڑا قریبی برادر ملک ہے جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، تعلقات کو شکوک وشہبات کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ سابق حکومت کی پالیسیاں بڑے لوگوں کے لیے ہوتی تھیں، وزیراعظم کا دل صرف نعروں کی حد تک غریبوں کےلئے نہیں دھڑکتا، وہ ان کیلئے عملی طور پر کام کر رہے ہیں۔مریم نواز شریف کی نیب پیشی پر ہونے والے واقعہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو اپنے کیے پر نادم ہونا چاہیے، مسلم لیگ (ن) کو لوٹ مار کا جواب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غریب دال روٹی کو ترس رہے ہیں اور انہوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، وزیراعظم عمران خان نے پہلے دن کہا تھا کہ جب حساب لیا جائے گا تو یہ سب اکٹھے ہونگے کیونکہ ان کا مقصد اپنی دولت بچانا ہے۔






