کسٹم کو ئٹہ کی کا روائی 20000ہز ار کلو گرام چھا لیہ بر آمد

کسٹم کو ئٹہ کی کا روائی 20000ہز ار کلو گرام چھا لیہ بر آمد

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: کسٹم کو ئٹہ کی کا روائی 20000ہز ار کلو گرام چھا لیہ بر آمد تفصیلات کے مطابق کسٹم کو ئٹہ نے لکپاس کے مقا م پر کا روائی کر تے ہو ئے کسٹمز چیک پوسٹ پر ایل پی جی گیس باﺅ زر سے دوران تلا شی 20000ہز ار کلو گرام چھا لیہ بر آمد کر لیں، کلیکٹرکسٹمز پریونٹیو عرفان جاوید کو اطلاع ملی کہ چھالیہ مافیا کچھ خطرناک طریقوں سے چھالیہ اندرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں اور اس کے لئے کویفیائڈ ایل پی جی گیس کے باو¿زر استعمال کیا جائگا۔ یہ ایک خطرناک طریقہ اسمگلنگ کا ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے اس لئے کلیکٹر نے باقائدہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں۔جس پر ایڈیشنل کلیکٹر یاسر کہلوڑ، ڈپٹی کلیکٹر اکبر جان نے مزید سخت ایکشن کیلئے سپرنٹنڈنٹ اسلم خان اور پوسٹ انچارج انسپکٹر احمد نواز زہری کو تیار رہنا کا حکم دیا ۔ جس کے بعد گزشتہ شب لکپاس کے مقام پر ایک ھینو ٹرک بائیس ویلرز جو کہ کوئٹہ سے کراچی منتقل ہورہا تھا جس پر ایل پی جی گیس باو¿زر لادی گئی تھی کو روک کر اس کی تلاشی لی تو باو¿زر میں چھپائی گئی 20000 ہزار کلو گرام چھالیہ برآمد کی گئی دوران تلاشی کنٹینر کو کسٹم ہاو¿س سے دور ویرانے میں لے جاکر چیک کیا تاکہ کسی کو نقصان نے پہنچے۔ گیس کے مکمل اخراج کے بعد اسے واپس کسٹم چیک پوسٹ لاکر خالی کیا گیا۔ چھالیہ بمع باو¿ز جنھیں قبضے میں لے لیا گیا کی قیمت تقریباً 6کروڑ روپے ہے واضع رہے اسی سال فروری کے مہینے میں کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ایک گودام میں پارک اسی طرح کا ایل پی جی کنٹینر اس وقت خوفناک دھمکے سے پھٹاتھا جبکہ اس میں کچھ عناصر چھالیہ لوڈ کر رہے تھے دھماکے سے موقع پر موجود کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے اس وقت بھی کسٹم اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام چھالیہ قبضے میں لیں تھیں واضع رہے چیف کلیکٹر کسٹمز کی جانب سخت ترین اقدام کے بعد اسمگلرز مختلف طریقوں سے اسمگلنگ کی کوشش کرتے ہےں جن میں اس طرح کی خطرناک طریقے سے بھی اپنائے جاتے ہےں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!