فیصلہ جلد کیا جائے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خاندان کا مطالبہ

فیصلہ جلد کیا جائے، ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خاندان کا مطالبہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

پاکستانی حکام نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے چند ہفتوں کے اندر گرفتار کر لیا تھا۔ انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں خفیہ ٹھکانے تک پہنچانے میں سی آئی اے کی مدد کی تھی۔ تاہم پاکستان نے ان پر اس الزام میں مقدمہ نہیں چلایا بلکہ انہیں ایک کالعدم شدت پسند گروہ لشکر اسلام کی مالی امداد کرنے کے الزام میں 23 سال قید کی سزا سنا رکھی ہے۔ بدھ کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر آفریدی کے بڑے بھائی جمیل آفریدی نے کہا، ”ہم چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل پر جلد اپنا فیصلہ سنائیں۔‘‘ بعد میں جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہمیں انصاف نہیں مل رہا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی نو سال سے پاکستان کی قید میں ہیں اور حکومت نے ان کی سزا کے خلاف اپیل بظاہر سرد خانے میں ڈال دی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکی حکومت نے ‘ہیرو‘ قرار دیا تھا اور بارہا ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان میں انہیں عسکری حلقوں کی طرف سے ‘امریکی جاسوس‘ اور ‘غدار‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے انسداد پولیو مہم کی آڑ میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کیا تھا پاکستان کا تب تک امریکا سمیت پوری دنیا سے کہنا تھا کہ اسے اسامہ بن لادن کی کوئی خبر نہیں۔ ایبٹ آباد میں مئی دو ہزار گیارہ میں امریکی کمانڈوز کے خفیہ آپریشن کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر سخت نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پاکستانی آرمی کے اس وقت سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا پر سخت دباؤ تھا کہ وہ پورے ماجرے کی وضاحت کریں۔ پاکستانی قیادت نے تب اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کارروائی سے لاعلم رہنے پر اپنی غفلت اور نا اہلی تسلیم کر لی تھی اور خفیہ طور پر اسامہ کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات سے انکار کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!