کوئٹہ(پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا یے گذشتہ روز تربت میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم بی ایس او تربت زون کے جوائنٹ سیکرٹری نسیم بلوچ کے بھائی حیات بلوچ کو ریاستی فورسز نے فائرئنگ کرکے شہید کردیا پہلے نوجوانوں کو لاپتہ کرکے مسخ شدہ لاشیں پھینکی جاتی تھی اب انکے والدین کے سامنے ان ہاتھ پاؤں اور آنکھیں باندھ کر تشدد کرکے گولیوں سے چھلنی کردی جاتی ہے بلوچ قوم کو ہمیشہ نچلے درجہ کے شہری کا احساس دلایا جاتا ہے اور بندوق کے زور پر وفاداری و غداری کے سرٹفیکیٹ تقسیم کرکے بلوچ قوم کے خلاف نوآبادیاتی زہنیت کے تحت کاروائی کی جاتی ہے بلوچستان میں اس طرح کے واقعات کا مقصد نوجوانوں اور عوام کو بندوق بردارقوتوں سے خوف شکار بنا کر سیاسی و سماجی طور پر سرگرمیوں سے دور کرکے منفی ہتکھنڈوں کا شکار بنایاجاتا ہے. شہید حیات مرزا کے شہادت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی طاقت کو بلوچ نوجوان نہ ہی تعلیمی اداروں میں قبول ہے نہ انہیں محنت کرنے کا حق ہے صرف کاسہ لیس منشیات فروش و سرکاری خوشامد پرستوں کو یہاں سرکاری ریاستی شہری کے حقوق کا پیمانہ بنایا گیا ہے شریف لوگوں اور بلوچستان سے محبت کرنے والوں سے زندہ رہنے کا حق بھی چینا جارہا ہے جبکہ سماج دشمنی عناصر کو بلوچ نسل کشی کی خاطرفروغ دی جارہی ہے تاکہ انکے زریعے نام نہاد سرکاری تقریبات کرکے رائے عامہ کو گمراہ کیا جاسکے انہوں نے مزید کہا ہے کہ بلوچ طلباء و طالبات نے جب شعوری طور پر قلم و کتاب کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو منفی ہتھکنڈوں کے زریعے انہیں مایوس کرکے زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چینا جارہا یے بلوچستان میں عملاً مکمل طور پر فورسز و انکے قائم کردہ غیر جمہوری قوتوں اور ڈیتھ سکواڈ کی حکومت ہے جسکے تحت بلوچ عوام کے تمام انسانی سیاسی سماجی حقوق پر قدغن لگایا گیا ہے تعلیمی ادارے بھی فورسز کے کنٹرول میں اسٹڈی سرکلز و پروگرامز پر پابندی عائد کی گئی اب انفرادی طور پر ہونہار طلباء کو تعلیم حاصل کرنے نہیں دی جاتی کسی بھی واقعے کی آڑ میں طلباء کو لاپتہ و گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے. انسانی حقوق کے اداروں کی طرف مکمل طور پر خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، اس ضمن میں تمام بلوچ سیاسی جماعتیں و تنظیمیں متحد ہوکر انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرے ۔
