آڈٹ رپورٹ میں محکمہ صحت اور تعلیم میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

آڈٹ رپورٹ میں محکمہ صحت اور تعلیم میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ 2017-18 کی آڈٹ رپورٹ میں محکمہ صحت اور تعلیم میں سب سے زیادہ بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔پی ڈی ایم اے کا اسپیشل آڈٹ کرا رہے ہیں صورتحال سامنے آجائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ارکان صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی اور نصر اللہ زیرے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 کی آڈٹ رپورٹ میں سب سے زیادہ محکمہ صحت اور تعلیم میں بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں ،ایک سال کی رپورٹ میں نان پروڈکشن آف ریکارڈ بہت زیادہ تھے ، بغیر ٹینڈرز کے منصوبوں کی الاٹمنٹ کی گئی ، کوئٹہ میں بہت سے اسکول بغیر چھت اور چار دیواری کے ہیں جبکہ سینکڑوں اسکولز کرایہ کی عمارتوں میں ہیں حالانکہ صوبائی حکومت کی جانب سے 50 کروڑ روپے پرائیویٹ بینک میں رکھے گئے تھے جس کا نہ تو صوبائی حکومت کو فائدہ ہوا اور نہ ہی عوام کو تاہم بینک نے اپنا بزنس کیا ، فنڈز خرچ ہونے کے باوجود ان کے پراجیکٹس مکمل نہ ہوسکے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار بھی خراب ہے ، سول اسپتال میں 20 ڈائیلائسز مشینوں میں سے 19 خراب ہیں جبکہ آکسیجن سلنڈر 600 روپے کی بجائے 1100 روپے میں خریدی جارہی ہے ، تمام تر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور احکامات بھی جاری کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے سے متعلق اسپیشل آڈٹ کرائی جارہی ہے جس کے بعد تمام تر صورتحال سامنے آجائے گی ، انہوں نے کہا کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی آئینی ادارہ اور آئین و قانون کے تحت حکومت اور محکموں کا احتساب یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ کے افسران اور حکام پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت تک نہیں کرتے ، ان کی عدم شرکت سے پی اے سی سمیت تمام ممبران اور بلوچستان کے عوام کا استحقاق مجروح ہوا ہے ،پبلک اکانٹس کمیٹی آئینی کمیٹی جس کے سامنے سب جوابدہ ہیں ، محکمہ فنانس کے افسران کے خلاف چیف سیکرٹری کو لکھیں گے۔ ملک نصیرشاہوانی نے کہا کہ صوبے کی بیورکرویسی بہت طاقتور بن چکی ہے پی اے سی نے اپنی پہلی رپورٹ اسمبلی میں جمع کرائی ہے لیکن محکمہ خزانہ کے حکام کی جانب سے غیر ذمہ داری کا مظاہر کیا جارہا ہے ، پشتونخوا میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ بیوروکریسی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں سے اپنے آپ کو بالاتر سمجھتی ہے حالانکہ سیکرٹری فنانس پبلک اکاونٹس کمیٹی کو جواب دہ ہیں لیکن فنانس ڈرپارنمنٹ کے حکام ڈیڑھ سال سے کمیٹی اجلاس میں نہیں آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!