خضدار: رکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے کہاہے کہ میرحاصل خان بزنجو کی کی رحلت سے ایک علمی اور سیاسی باب بند ہوگیا، وہ بلوچستان سمیت پوری قوم کے لئے پوری دنیاءمیں سیاسی سفیر کی حیثیت رکھتے تھے، ان کی وفات سے اہل بلوچستان ایک قومی رہنماءسیاسی زعماءسے محروم ہوگیا ہے۔ میرحاصل خان بزنجو نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی اور پارلیمنٹ کو سپریم بنانے کے لئے اپنی سیاسی جدوجہد دلیرانہ انداز میں جاری رکھا، ان کی طرزِ سیاست پوری قوم کی امنگوں کی ترجمان ہوا کرتی تھی، آج جب وہ اس دنیاءسے رخصت ہوئے تو یوں محسوس ہونے لگا جیسے قوم کی آواز ہی مدہم سی ہوگئی ہے،ان خیالات کااظہارجمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنماءرکن بلوچستان اسمبلی میر یونس عزیز زہری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھاکہ میر حاصل خان بزنجو نہ صرف بلوچستان بلکہ پوری قوم کے لئے ایک حوصلہ تھے، ان کی سیاسی قد آور شخصیت نے قوم میں جذبہ اور امنگ پید اکر رکھی تھی، وہ جب بھی پارلیمنٹ میں بولتے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قوم کے احساسات بول رہے ہیں، توانا جمہوریت کے لئے میرصاحب کی طویل جدوجہد تاریخ میں سنہرے الفاظ میں رقم کرنے کے مترادف ہیں۔ان کا سائیہ ملکی سیاست کے لئے سائبان کی حیثیت رکھتا تھا وہ تمام صوبوں اور وفاق کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کی علامت تھے۔ وہ سیاست کے تمام رموز و اوقاف سے آشنا اور سیاسی طبقات کے لئے سیاسی استاذ کی حیثیت رکھتے تھے۔ میر حاصل بزنجو کا رحلت کرجانا نہ صرف بلوچستان بلکہ پوری قوم کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اور ان کی خلامدتوں پر نہیں ہوسکے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاءہے کہ میر حاصل بزنجو کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور ان کے خاندان، سیاسی ورکرز اور عقیدت مندوں صبر جمیل کی توفیق نصیب عطاء فرمائے۔






