بلوچ قومی حقوق اور بلوچستان کے ساحل وسائل کے دفاع کی جہد جاری ہے ‘ بی این پی

بلوچ قومی حقوق اور بلوچستان کے ساحل وسائل کے دفاع کی جہد جاری ہے ‘ بی این پی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

خضدار ( پ ر ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ پارٹی کارکنوں نے مشکل کٹھن اور آمریت کے سخت ادوار اور نام نہاد جمہوری دور حکومتوں میں بلوچ قومی حقوق اور بلوچستان کے سائل وساحل کے دفاع کےلئے جو مثالی جدوجہد کے ذریعے جو تاریخ رقم کیا ہے وہ یہاں کے عوام کے لئے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اپنے پارٹی کے کارکنوں اور دوستوں کی ان جدوجہد کو کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں ہونے دیا جائیگا۔ بلوچستان کو آج بھی طرح طرح کے سنگین مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے انھیں دور کرنے کےلئے پارٹی کے کارکنوں کو اپنی جدوجہد میں تیزی لانا ہوگی۔اس موقع پر کوئٹہ سے آئے ہوئے پارٹی کے دوستوں نے خضدار میں پارٹی کے تمام کارکنوں عہدیداروں ہمدردوں کے دوست واکارب جو کرونا اور دیگر اموات کے نتیجے میں فوت ہوئے تھے ان کےلئے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور گذشتہ دنوں وڈھ میں پارٹی کے متحرک رہنماءو پارٹی کے مرکزی کونسلر میر عبدالکریم دینارزئی مینگل کے ناگہانی انتقال پر ان کی جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہ ان کے انتقال سے پارٹی ایک مخلص رہنماءسے محروم ہوا ان کی کمی کو پورا کرنے میں وقت لگے گا اللہ تعالی سے دعا کی کہ وہ مرحوم کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے ۔ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری چیئر مین لعل جان بلوچ، پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ، ضلعی سینئر نائب صدر شفیق ساسولی ،بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبر حفیظ بلوچ، بی این پی کوئٹہ کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری یونس بلوچ، پارٹی کے مرکزی کونسلر ملک صلاح الدین شاہوانی ، حاجی محمد اقبال بلوچ، ڈاکٹر محمد بخش بلوچ، سفر خان بلوچ نے خضدار میں پارٹی کے ضلعی کابینہ مختلف تحصیلوں کے عہدیداروں اور پارٹی کے سینئر کارکنوں سے ملاقات کے موقع پر منعقدہ نشست کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جبکہ کارروائی ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام نبی ایڈووکیٹ نے سرانجام دیئے جبکہ بلوچی و براہوئی زبان کے اور دانشور سلیم کرد نے بلوچ قوم کے تاریخی ثقافتی سماجی ارتکائی عمل سے لیکر موجودہ دور تک کے حالات پر سیاسی لیکچر دیا اس موقع پر پارٹی کے عہدیداروں نے تنظیمی سیاسی ثقافتی تاریخ سے متعلق کارکنوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے ۔پارٹی کے رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے بدلتے ہوئے معاشی سماجی حالات کے تناظر میں بلوچ وطن کی جیوپولیٹکل و محل وقوع کی اہمیت اضافہ کا سبب بن رہا ہے کیونکہ آج دنیا جس معاشی بحران اور دیگرمسائل سے دوچار ہیں ان کی نظریں بلوچستان کے قدرتی دولت سے مالا مال زرخیز وطن اور ساحل وسائل پر مرکوز ہیں اور وہ ہرحالت میں اپنے معاشی مفادات کے اصول کےلئے ہمارے وطن کے وسائل کو اپنا دسترس برقرار رکھنا چاہتے ہیں اُ ن کے منصوبوں میں یہاں کے عوام کے فلاح و بہبود ترقی خوشحالی انسانی حقوق کی فراہمی اور بنیادی ضروریات زندگی تعلیم صحت روزگار انفراسٹرکچر کی فراہم اور ان کی زندگیوں کو بدلنے سے کوئی سروکار نہیں ہیں وہ صرف اور صرف اس وطن کے وسائل کو اپنے ہاتھ میں لانا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی یہاں کے محکوم مظلوم عوام اور نہتے سیاسی کارکنان اپنے حقوق کےلئے سیاسی اور جمہوری اور پارلیمانی انداز میں حقوق کی بات کرتے ہیں اور ان ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انھیں بزور شمشیران کی آواز کو دبا کر ظلم و جبر اور ناانصافیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلوچ کا مسئلہ سیاسی ہے اور اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن ناقاعب اندیش حکمرانوں نے کبھی بھی بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دور دورا ہے اور یہاں کے عوام بدترین پسماندگی جہالت غربت حساس محرومی اور ناانصافیوں کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی کسی بھی صورت میں یہاں پر ہونے والے ناانصافیوں کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کریگی ۔اور اپنے بزرگ قوم وطن دوست عظیم سیاسی رہنماءسردار عطاءاللہ خان مینگل جن کی پوری زندگی بلوچ قوم اور بلوچستان کے عوام کے حقوق کی جدوجہد کےلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے انہی کی رہبری میں اور پارٹی کے قائدسردار اختر جان مینگل کی قیادت میں قومی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں اپنا بھر پور سیاسی کردار ادا کرینگے ۔ہماری جدوجہد کا مقصد ہر قسم کی نفرت تعصب تنگ نظری سے بالا تر ہے ہم انسانی مساوات سماجی انصاف قومی جبر کے خلاف سیاسی جمہوری انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے اپنے عوام کو شعوری فطری اور نظریاتی طور پر حقوق کے جدوجہد کی طرف راغب کرتے ہوئے اپنے مادر وطن کی دفاع اور قومی حقوق واحق و اختیار ساحل وسائل تہذیب و تمدن کی بحالی اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلئے ہمہ وقت جدوجہد کی خاطر تمام ترقی پسند روشن خیال انسان دوست عوام سے ملکرغیر جمہوری اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ بی این پی وہ سیاسی یہاں کے تمام مذاہب زبانوں رنگ ونسل کی نمائندہ جماعت ہے کہ جنہیں متحد اور منظم کرکے صوبے کی ترقی وخوشحالی فلاح و بہبود اور اپنے حقوق کی دفاع کی جدوجہد کےلئے متحد کرینگے۔دریں اثناءپارٹی کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری چیئرمین لعل جان بلوچ نے خضدار میں آئے ہوئے پارٹی کے مرکزی رہنماﺅں کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر پرتکلف عشائیہ کا اہتما م کیا جبکہ خضدار کے ضلعی کابینہ اور دیگر دوستوں نے استقبالیہ ٹی پارٹی دیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!