بلوچستان کے 9 اضلاع میں سیلابی صورتحال، ایمرجنسی نافذ

بلوچستان کے 9 اضلاع میں سیلابی صورتحال، ایمرجنسی نافذ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے میں سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہونے کے باعث نو اضلاع میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی جبکہ امریکا نے سندھ اور بلوچستان کے چند حصوں میں تباہی مچانے والی بارشوں میں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ روز بھی نصیرآباد، جعفرآباد، سبی، جھل مگسی، خضدار، قلات، مستونگ، حب، بیلا، ہرنائی، ژوب، زیارت، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو اضلاع میں طوفانی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش سے متعلقہ واقعات میں اب تک 5 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔ کوئٹہ کے قریب وادی حنا ویلی میں سیلابی پانی میں چار بچے بہہ گئے تھے تاہم علاقے کے لوگوں نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے ان میں سے 3 کو بچالیا تھا۔ ضلع مستونگ کے علاقے دشت عمر ڈوری میں محمد یوسف نامی نوجوان لڑککرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ ضلع لسبیلہ کے علاقے لکھارہ میں آسمانی بجلی گرنے کے باعث محمد وسیم نامی شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کے علاوہ ایک نوجوان حب دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ سیلاب کے پانی کی وجہ سے بڑی تعداد میں دیہات زیرآب آگئے اور کوئٹہ-سکھر قومی شاہراہ پر واقع مرکزی پل کو نقصان پہنچنے سے کوئٹہ ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہوگیا۔ سبی، بولان اور خضدار اضلاع میں موسمی دریا بولان، ناری اور مولا میں طغیانی دیکھی جارہی ہے۔ جھل مگسی ضلع میں میں جھل مگسی اور گنداوہ کے درمیان لنک روڈ سیلابی پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے کئی گاؤں ضلعی ہیڈ کوارٹر سے منقطع ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کے دوران سندھ اور بلوچستان کے چند علاقوں میں تباہی مچانے والی بارشوں میں جانوں کے ضیاع پر افسوس ہوا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم غیر یقینی بارشوں اور اس کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے بخوبی واقف ہیں جس سے کراچی اور گردونواح کے علاقے متاثر ہوئے ہیں’۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہا ‘ہمیں جانوں کے ضیاع پر غم ہے اور ہم متاثرین کے اہل خانہ اور پوری برادری سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں’۔ خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے چند حصوں میں موسلا دھار بارش سے کراچی اور آس پاس کے علاقوں اور دیہات میں سیلابی صورتحال دیکھی گئی ہے جس میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!