سنتھیا کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست، ویزا پالیسی طلب

سنتھیا کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست، ویزا پالیسی طلب

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سیکریٹری داخلہ سے ویزا پالیسی طلب کر لی۔ امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔ پٹیشنر چوہدری افتخار کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سنتھیا ڈی رچی اپنے وکیل عمران فیروز ملک کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری داخلہ نے واضح آرڈر جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو کیا شکایت ہے؟ جسٹس آف پیس کے عدالتی فیصلے کا پیرا 9 اختیارات سے تجاوز ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ طے شدہ قانون ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے لیے کسی انکوائری کی ضرورت نہیں، جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جائے تو اس کے لیے بھی قانون موجود ہے، جسٹس آف پیس کے پاس انویسٹی گیشن کے اختیارات نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے وزارتِ داخلہ کا حکم پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے سنتھیا رچی کے ویزے میں 31 اگست تک توسیع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنتھیا رچی کے الزامات سے متعلق انکوائری ایف آئی اے کر رہی ہے، سنتھیا رچی نے بتایا کہ وہ کسی حکومتی ادارے کی ملازمہ نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پہلے بتایا گیا تھا کہ انہوں نے کے پی حکومت اور آئی ایس پی آر کے ساتھ کام کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید محمد طیب شاہ نے جواب دیا کہ سنتھیا کو دوبارہ بلا کر سنا گیا تو انہوں نے اس سے متعلق وضاحت کی، سنتھیارچی کی ویزے میں توسیع کی درخواست مارچ اور پھر جولائی میں دی گئی۔ لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سنتھیا رچی کا اس وقت ویزا ختم ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ سنتھیا رچی حکومتِ وقت کے خلاف بیانات دے تو کیا سیکریٹری داخلہ خاموش رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ کیا آپ بتا رہے ہیں کہ ویزا جاری کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں؟ بزنس ویزا کے اجراء کے لیے کیا قانون ہے؟ ڈاکومنٹ دکھائیں۔ چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ اپنے حکم میں خود بتا رہے ہیں کہ ویزا قواعد کی خلاف ورزی کی گئی، کیا کل کوئی بزنس ویزے پر آ کر وزیرِ اعظم کے خلاف ایسے بیان بازی بھی کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کل کوئی بزنس ویزے پر آ کر وزیرِ اعظم کے خلاف ایسے بیان بازی بھی کر سکتا ہے؟ آپ نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا؟ یہ تشویش ناک بات ہے کہ وزارتِ داخلہ کو قانون کا ہی علم نہیں، اگر کوئی پاکستان آ کر ویزا قواعد کی خلاف ورزی کرے تو حکومتِ پاکستان کیا کرے گی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سیکریٹری داخلہ کو معلوم نہیں کہ بزنس ویزا کے کیا قواعد ہیں تو یہ بات بہت تشویش ناک ہے، کیا سیکریٹری داخلہ آئندہ سماعت پر آ کر اس معاملے پر وضاحت کر سکتے ہیں؟ بزنس ویزے کا تقاضہ ہے کہ سیاسی بیانات نہ دیئے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!