وکلا کو عدالت میں داخلے سے روکنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار برہم ہوگئی۔جنرل سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ بار سہیل اکبرچوہدری کا کہنا ہے کہ وکلا نے عدالتوں میں پیش ہونا ہے ، وکیلوں کے بغیر عدالتیں کیسے چلیں گی۔جنرل سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ بار سہیل اکبرچوہدری نے میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ فیل ہوچکی، یہ انتظامی نقص ہے، انتظامیہ کو ہم سے پوچھنا چاہیے تھا ہم ہائیکورٹ کی انتظامیہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہمارے ساتھ رابطہنہیں کیا جائے گا، معاملات کیسے چلیں گے ،ہم اس پر احتجاج کررہے ہیں اور میں اس معاملے پر بات بھی کروں گا ، اس انتظامی ناکامی کے باعث وکلا ، سینئر وکلا اور خواتین وکلا پریشان ہورہے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہمجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہاں کی انتظامیہ کو خوف کس چیز کا ہے ،کیا وکلا کا خوف ہے ، کیا عدالتوں میں پیش ہونے کا خوف ہے ،گیارہ بجے ان کی پیشی ہے اور انہوں نے صبح سے وکیلوں کو تنگ کیا ہوا ہے۔ جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ہم احتجاج کرتے ہیں،ہم اپنےاحاطےمیں اپنی مرضی سےمعاملات چلانےکااختیاررکھتے ہیں،وکلا کو روکا جانا غیر قانونی ہے ۔
