پاکستان ہمارا ملک اور فیدڑیشن ‘ عوامی حقوق و اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرینگے ‘ محمود خان اچکزئی

پاکستان ہمارا ملک اور فیدڑیشن ‘ عوامی حقوق و اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرینگے ‘ محمود خان اچکزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین مشر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو سب سے زےادہ تقوی دار اور انصاف پسند ہے ، ہم کسی بھی انسان سے رنگ ، نسل ،زبان اور مذہب کی بنےاد پر فاصلے نہےں رکھتے اور نہ ہی کسی سے نفرت کرتے ہےں۔ پاکستان ہمارا ملک اور اےک فےڈرےشن ہے اور اس کاآئےن ہی ہمےں اےک دوسرے سے جوڑتا ہے ، ہم نے اُس وقت بھی اس مٹی سے محبت کا عہد کےا تھا جب ےہاں انگرےز کا راج تھا ، پاکستان اُسکے آئےن اور اسکے عوام کے حقوق واختےارات پر کسی سے سمجھوتہ نہےں کرےنگے۔ ملک کے آئےن کے تحت حلف اُٹھانے والے ہر ادارے کو اپنے حلف کی پابندی کرنی ہوگی ، انگرےز کے دور سے لےکر آج عمران خان کے حکومت تک مسلسل اقتدار مےں رہنے والے سدابہار لوگوںکو مسترد کرنا ہوگا ، پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنےوالے ججز اور جمہورےت کےلئے قربانےاں دےنے والوں کو خراج تحسےن کے ساتھ ےاد رکھنا ہوگا۔ بہترےن منظم فوج اور اےجنسےاںکسی بھی ملک کےلئے ضروری ہے لےکن انہےں آئےن مےںدےئے گئے حدود مےں ہی رہنا ہوگا۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہال مےںکوئٹہ پرےس کلب کی 50وےں سالگرہ گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے PUJFپاکستان ےونےن آف جرنلسٹ کے عہدےداروں وممبران کے اعزاز مےں دےئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔ جس سے پی ےو جے اےف کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور جنرل سےکرٹری ناصر زےدی نے بھی خطاب کےا۔ ظہرانے مےں بلوچستان ےونےن آف جرنلسٹس کے صدر اےوب ترےن وان کی کابےنہ ، صوبے کے دےگر صحافےوں سمےت پشتونخوامےپ کے مرکزی وصوبائی اےگزےکٹوز بھی شرےک تھے۔ محمود خان اچکزئی نے ان صحافےوں کے کوئٹہ کے دورے کا خےر مقدم کرتے ہوئے انہےں خوش آمدےد کہا اورپارٹی کی مےزبانی قبول کرنے پر ان کا شکرےہ ادا کےا۔ اور کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی تمام انسانےت کو حضرت آدم اور بی بی حوا کی اولاد سمجھتے ہےں اور کسی بھی انسان سے رنگ ، نسل زبان اور مذہب کی بنےاد پر نفرت نہےں کرتے بلکہ اسے گناہ کبےرہ سمجھتے ہےں اور ہمارے آخری پےغمبر حضرت محمد ﷺ نے فرماےا تھا کہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر فوقےت حاصل نہےں۔ بلکہ جو انصاف کا ساتھی ہے وہ اچھاانسان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اےک فےڈرےشن ہے اس مےں آباد مختلف اقوام پشتون ، بلوچ ، سندھی ، پنجابی او رسرائےکی اےک دوسرے کی زبان تک نہےں سمجھتے لےکن ہمےں اےک آئےن اےک دوسرے سے جوڑتا ہے اور جےسے خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اس وطن سے محبت اور جدوجہد کی وجہ اپنے وجود کے اندر کی روشنی سے ملا کسی باہر کی قوت کے باعث نہےں۔ لہٰذا ہم نے اس وقت بھی اس وطن کی مٹی سے محبت کا عہد کےا تھا جب ےہاں انگرےز کا راج تھا ۔انہوں نے خان شہےد کی جدوجہد کی شروعات کے واقعات اور غازی امان اللہ خان کے افغانستان سے جانے اور چمن مےں ان کے استقبال اوربرٹش بلوچستان صوبے کے قےام کے واقعات سناتے ہوئے کہا کہ خان شہےد کی شروع کردہ تحرےک کے روز اول سے لےکر ان کی شہادت تک مسلسل جدوجہد جاری رکھی اور زندگی کا طوےل عرصہ انگرےزی اور ملکی جےلوں مےں گزارا ۔اےوب خان کے دور مےں 14سال قےد بامشقت دی گئی ان کی رہائی کے 2ہفتے بعد دوبارہ انہےں 14سال قےد بامشقت کی سزا دی گئی۔ اور انہےں اور ان کے ساتھےوں سمےت ہم سب کو بدترےن اذےتےں دی گئی لےکن پھر بھی ہم نے کبھی بھی پاکستان مردہ آباد کا نعرہ نہےں لگاےا۔ لےکن آج خدا کا شکر ہے کہ ہمارے اکابرےن جو کہتے تھے وہ بات آج نواز شرےف پنجاب ، سندھ سمےت سب کی طرف سے ہورہی ہے اور ےہ پاکستان کے اقوام وعوام کی کامےابی ہے ۔ لہٰذا پاکستان کو اےک فےڈرےشن رہتے ہوئے کسی کی دوسرے پر بالادستی نہےں ہوگی۔ جس طرح قانون مےں سب برابر ہے اسی طرح عمل مےں بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کےلئے بہترےن فوج اور ان کے اداروں کی ضرورت ضروری ہے اور اس کےلئے ہر قسم کے وسائل اور اسلحہ کا بندوبست بھی ضروری ہے لےکن دنےا کے اس اصول کو ماننا ہوگا کہ سےاست مےں ان کی طرف سے مداخلت نہےں ہوگی ۔ بلوچستان حکومت کا خاتمہ اور سےنٹ کے انتخابات کے موقع پر جو ہوا اُسے تمام ملک نے دےکھا ۔ لہٰذا خود ہی اپنے لوگوں کو کرپٹ کرکے ملک نہےں چلائے جاسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کے آئےن اور عوام پر کسی سے سمجھوتہ ممکن نہےں بلکہ آئےن کے تحت حلف اٹھانے والے کو حلف کی پابندی کرنی ہوگی ۔ انہو ںنے کہا کہ انگرےزو ںسے آزادی کی جنگ مےں کوئی بھی مسلمان پارٹی اور ان کے رہنماءپاکستان کے حق مےں نہےں تھے حتی کہ بانی پاکستان محترم قائد اعظم محمد علی جناح صاحب پہلے کانگرےس مےں تھے لےکن ملک کے قےام کے بعد ضروری تھا کہ تجربہ کار اور وطن دوست سےاسی لوگوں کے ذرےعے ملک چلاےا جاتا لےکن روز اول سے غلط بنےادےں رکھ دی گئی اور پشاور مےں منتخب اسمبلی کو توڑا گےا ۔ اور اسی طرح پشاور سمےت پنجاب اور ہر علاقے سے سدابہار لوگوں کو جمع کےا گےا اور ا س کا نتےجہ ےہ ہوا کہ ہم پہلے دن سے کرپشن کا شکار ہوگئے ۔لےکن اب ےہ ضروری ہے اور ےہ وعدہ سب نے کرنا ہوگا کہ ان سدا بہار لوگوں سے کسی کو خےر کی توقع نہےں رکھنا چاہےے کےونکہ ےہ وہ پرندے ہےں کہ وہ جس عمارت پر بےٹھ جاتے ہےں انہےں کھنڈرات مےں تبدےل کردےتے ہےں بلکہ ہم نے ےہ وعدہ کرنا ہوگا کہ بالخصوص ان بڑی پارٹےوں نے کہ پاکستان کے وہ سدابہار لوگ جو انگرےز کے دور سے لےکر آج تک ہر اقتدار مےں شامل ہوتے ہےں انہےں مسترد کرنا ہوگا اور پارٹیوں کو بھی ےہ اصول اپنانا ہوگا کہ وہ سدابہار لوگوں کو اپنی جماعت مےں شامل نہےں کرےنگے۔ اور ان لوگوں کو خراج تحسےن کے ساتھ ےاد کرنا ہوگا جنہوں نے جمہورےت کی بقاءکےلئے قربانےاں دی اور خاص کر وہ ججز جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لےنے سے انکار کےا اور وہ سےاسی کارکن جوجمہورےت کی جدوجہد کی راہ مےں شہےد ہوئے انہےں اعزاز کے ساتھ ےاد رکھنا ضروری ہے ۔ اور جن جرنلوں نے جمہورےت کے ساتھ کھلواڑ کےا اس کی مذمت اور جن جرنلوں نے اپنا دور پابندی کے ساتھ گزارا انہےں مثبت انداز مےں ےاد رکھنا ہے ۔ ےعنی جو جج ،وزےر، سےاسی، جنرل آئےن کا مذاق اڑائےگا ان کی مذمت اور جو جج ، وزےر ،سےاسی، جنرل آئےن کا پاس رکھے گا اُسے زندہ آباد کہنا چاہےے اور اس طرح ہم سب نے آئےنی حدود مےں رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب ساری مسلمان دنےا ماہ سوائے ترک اور افغانستان کے غلام ہوگئے تو افغانستان ہمارے اور خطے کے تمام آزادی پسندوں کی پناہ گاہ تھی اور پاکستان کے خلاف بھارتی جنگوں مےں افغانستان ہمےشہ غےر جانبدار رہا ہے۔ لےکن اب افغانستان مےں جاری جنگ مےں ہمارا نام لےا جارہا ہے جو نےک شگون نہےں۔ بلکہ افغانستان مےں امن کا قےام از حد ضروری ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ پشتون قوم کے متعلق غلط پروپےگنڈے اور بالخصوص مےڈےا مےں ڈراموں وغےرہ مےں غلط الفاظ کا چناﺅ قابل افسوس ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ پاکستان کو بچانے اور اسے چلانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک کے اقوام وعوام کے حقوق واختےارات کو تسلےم کرنا ہوگااور اگر کسی کو مجھ جےسے افراد کی اسمبلی مےں موجودگی اچھی نہےں لگتی تو مےں کبھی بھی پارلےمنٹ مےں نہےں جاﺅنگا لےکن مےں پشتونوں ، بلوچوں ، سندھےوں اور وسطی پشتونخوا (فاٹا )سمےت سب کی ذمہ داری لےنے کےلئے تےار ہوں لےکن ہمےں ےہ ضمانت دےنی ہوگی کہ ملک مےں آئےن وقانون کی حکمرانی ، پارلےمنٹ کی بالادستی ہوگی ۔ مختلف اقوام کے وطنوں مےں ان کے معدنی وسائل پر ان کے بچوں کا حق تسلےم کرنا ہوگا اور ان کے قومی زبانوں کا احترام کرنا ہوگا ۔ خدا نے بھی چاروں بڑی کتابےں ان کے پےغمبروں کی مادری زبانوں مےں بھےجا تھا ےعنی خدا بھی اقوام کی زبانوں کو اہمےت دےتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وسطی پشتونخوا (فاٹا) کے مختلف علاقوں مےں جو ظلم وجبر اور بربرےت کی گئی وہ ناقابل بےان ہےںان کے بازاروں ، گھروں سمےت ہر چےز تباہ وبرباد کرکے ان پر بمبارےاں کی گئی ۔ اس دردناک ظلم وستم کے باوجود ان سے زندہ آباد کے نعروں کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف لوگ دن رات دروغ گوہی سے کام لےکر الزامات لگاتے رہتے ہےں لےکن حقےقت ےہ ہے اور مےں نے کہا بھی تھا کہ جب اقوام متحدہ بنی تو دنےا مےں آزاد ممالک کی تعداد تقرےباً 60 تھی لےکن اب75سالوں مےں تقرےباً 200سے زائد ہے اتنی بڑی تعداد مےں مملکتوں کا قےام ظلم وجبر کا نتےجہ ہے ۔اور ہم اس ملک کو توڑنا نہےں چاہتے لےکن ہم پشتون ، بلوچ ، سندھی اس ملک مےں غلاموں کی حےثےت سے نہےں رہےنگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرےن کہتے رہے کہ پاکستان اےک فےڈرےشن اور آپ نہےں مانتے رہے انہوں نے کہا کہ ون ےونٹ غلط ہے آپ نہےں مانے لےکن آج سب کچھ ثابت ہوگےا ہے اور آپ کے مارشلاﺅں نے فوج کی صلاحےتوں کو بھی کند کردےا ۔ لہٰذا راستہ اےک ہی ہے کہ آپ کو پاکستان کے عوام پر اعتماد کرنا ہوگا ،کوئی کسی سے خےرات نہےں مانگ رہا ہمارے اس صوبے مےں غرےب پشتون اور بلوچ کو اےک وقت کی سوکھی روٹی اور لسی تک مےسر نہےں ،ان کی آبادی کی مکمل اکثرےت کو تےن جوڑے کپڑے مےسر نہےں لےکن دوسری طرف سوئی کا گےس ختم ہورہا ہے اور اس صوبے کے باسےوںکو ابھی تک نہےں ملا اس طرح کے بے انصافی سے ملک نہےں چلتے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافےوں کے مسائل کے حل مےں ان کے ساتھ ہےں ہم نے ہمےشہ آزاد صحافت کی تائےد کی ہے۔ پی ےو جے اےف کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ ملک بھر کے صحافےوں کو ہر سطح پر مشکلات درپےش ہے حتی کہ اس صوبے مےں تےن ٹی وی چےنلز نے اپنے دفاتر بند کردےئے ہےں اور پرنٹ مےڈےا مےں بھی کارکنوں کو نکالا جارہا ہے ۔پی ےو جے اےف کے سےکرٹری جنرل ناصر زےدی نے کہا کہ ملک مےں آئےن کی بالادستی ، جمہورےت اور صوبائی خودمختےاری کے حصول کی جدوجہد مےں محمودخان اچکزئی رول ماڈل ہے پورے پاکستان مےں صحافی ، ادےب ، سکالرز سب لوگ ےہ سمجھتے ہےں کہ محمود خان اچکزئی جےسے سےاستدان ہمےشہ آمروں سے لڑتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالصمد خان اچکزئی کا ذکر نہ کےا جائے تو بات مکمل نہےں ہوگی ہم جب سےاسی کارکن تھے تو لوگ ہمےں خان شہےد عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد اور قےد وبند کی مثالےں دےا کرتے تھے جنہوں نے اےوب خان کی آمرےت کے تمام دورکو قےد وبند مےں گزارا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اےک اےسا صوبہ ہے کہ اس کی مٹی بہت زرخےر ہے اور اس کی تارےخ مزاحمت کی تارےخ ہے اس کی قےادت اور نوجوان آج بھی قربانےاں دے رہے ہےں ان کی آئےنی جمہوری جدوجہد قابل تحسےن ہے لےکن دوسری طرف اس کو غداری کاسرٹےفکےٹ دےا جاتا ہے جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک کو رکھنا ہے تو اقوام وعوام کو حقوق دےنے ہونگے ورنہ فےڈرےشن کمزور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے نے ملک کے آئےن کے مطابق رول ادا کرنا ہوگا ۔ محمود خان اچکزئی مسلسل کہتے رہے ہےں کہ آئےن پر عمل کرو ۔ انہوں نے کہاکہ مےں عبدالصمد خان اچکزئی کوسلام پےش کرتا ہوںجنہوں نے ساری زندگی جدوجہد مےں گزاری اور محترم محمود خان اچکزئی کی جمہوری جدوجہد کو خراج تحسےن پےش کرتا ہوں جنہوں نے جمہوری جدوجہد کو ہر حالت مےں درخشاں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ڈکٹےشن اور اےجنٹوں کے ذرےعے نہےں چلے گی بلکہ ملک مےں حقےقی جمہورےت اور آئےن کی حکمرانی ضروری ہے ۔انہو ں نے کہا کہ پرےس کی آزادی سمےت تمام جمہوری آزادےاں لازمی ہے اس کے بغےر جمہورےت کا خواب شرمندہ تعبےر نہےں ہوسکتا ۔ محمود خان اچکزئی کے موجودہ جمہوری اتحاد مےں تارےخی رول ہے لہٰذا ان سے کہتا ہوں کہ واضح چارٹر بناےا جائے اور خاص کر آئےن پر عملدرآمد کی بات کو آگے لانا ہوگااس سے ہی پاکستان چلے گا اور ےہی جدوجہد کا راستہ ہی راہ نجات ہے اور ہر آمرےت کے خلاف جب آواز اٹھے گی صحافی اس کے ساتھ ہونگے اور آپ بھی پرےس کی آزادی مےں معاون ثابت ہونگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!