معلوم تھا کہ کیا کیا حربے استعمال کئے جا سکتے ہیں‘میرے فون سے میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو کا خطاب یقینی بن سکا ‘ سردار اختر جان مینگل

معلوم تھا کہ کیا کیا حربے استعمال کئے جا سکتے ہیں‘میرے فون سے میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو کا خطاب یقینی بن سکا ‘ سردار اختر جان مینگل

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ تمام پارٹیوں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی تھی کہ بلوچستان کے جلسے کاخوش اسلوبی کے ساتھ انعقاد کیا جائے حکومت کی جانب سے سیل فون بند ‘ جلوسوں کو روکا گیا اور آخر میں سسٹم کو جام کر دیا گیا ظاہر ہے ہم نے ساری زندگی گزاری ہے ہمیں معلوم تھا کہ وہ کس کس طرح کی حرکتیں کر سکتے ہیں میرے سیل فون سے ہی نواز شریف اور بلاول بھٹو کا خطاب یقینی بنا بلوچستان میں کی جانے والی تقاریر میں کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ جس پر پابندی لگائی جا رہی تھی نواز شریف ملک کے وزیراعظم رہیں گے بلاول بھٹو پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں بلاول بھٹو جب گلگت میں خطاب کرسکتے ہیں تو بلوچستان میں کیوں نہیں یا ہمیں بتا دیا جائے کہ بلوچستان ممنوعہ علاقہ اور بلوچستان کے لوگوں کو لاشیں اٹھانے اور بلوچستان کے لوگوں کو رونے اور چیخنے کی اجازت ہے یہاں پر اظہار رائے کی اجازت ہے نہ کسی اور کو کہ وہ یہاں آ کر اظہار ہمدردی کرے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!