واشنگٹن:ریاستہائے متحدہ امریکہ میںاقتدار حاصل کرنے کی جنگ آخری مراحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اوراس سلسلے میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن جلسوں سے خطاب کے لیے ملک بھر میں سفر کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رواں برس ہونے والے انتخاب میں امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن مدمقابل ہیں، انتخاب میں دیگر آزاد امیدوار بھی شامل ہیں لیکن دونوں سیاسی حریفوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ٹرمپ نے آئیووا ، نارتھ کیرولینا، مشی گن ، جارجیا اور فلوریڈا سمیت پانچ ریاستوں کا دورہ کیا جبکہ ان کے حریف جو بائیڈن نے ایک پنسلوینیا میں ایک جلسے سے خطاب کیا۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں اب تک معیشت تیز ترین شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے عدالتوں میں قدامت پسند ججوں اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی امیدوار جوبائیڈن کو کرپٹ سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن امریکہ اور دنیا کو ایک مضحکہ خیز جنگ میں ڈبو دے گا، کورونا وائرس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایک "مہلک بائیڈن لاک ڈاؤن” یا "ایک محفوظ ویکسین ” کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے پنسلوینیا میں انتخابی مہم کے دوران سیاہ فام برادری کے ساتھ ٹرمپ کے رویہ پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو جس طرح ٹرمپ نے سنبھالا ہے وہ تقریبا مجرمانہ ہے۔ یہ سیاہ فام برادری کا اب تک کا سب سے بڑا جانی نقصان کا واقعہ ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جوبائیڈن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کورونا کو کنٹرول کرنے کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے اور 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد امریکی کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔منگل کے عام انتخابات سے قبل بائیڈن کو انتخابات میں واضح برتری حاصل ہے لیکن اہم ریاستوں کے حتمی نتیجے سے ہی فیصلہ ہوگا ۔






