ایران کا جوہری سائنسدان کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

ایران کا جوہری سائنسدان کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تہران: ایران نے جوہری سائنسدان کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشیر ایرانی اسپیکر حسین عامر عبداللہ نے کہا ہے کہ سائنسدان کے قتل میں ملوث بعض ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور جرم میں ملوث ملزمان کسی صورت قانون سے بچ نہیں سکتے۔ ڈپٹی کمانڈر پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل علی فدوی نے تہران میں ایک تقریب کے دوران بتایا کہ نسان پک اپ میں نصب مشین گن کو سیٹلائٹ سے کنٹرول کر کے مصنوعی ذہانت سے محسن فخری زادے کے قافلہ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں بتایا کہ جائے وقوعہ سے کسی انسانی حملہ آور کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے، مشین گن سے 13 گولیاں فائر کی گئی تھیں جس نے ایٹمی سائنسدان کے چہرے کو نشانہ بنایا جبکہ چار گولیاں سیکیورٹی پر مامور افسر کے سر میں پیوست ہوئیں۔ ایک اور ایرانی سکیورٹی اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ صاف ظاہر ہے کہ قاتلوں نے ایٹمی سائنسدان کی نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلی انٹلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کی تھی۔ اس عہدیدار نے کہا ‘یہ واضح طور پر فخری زادے کے قتل نے بہت ناقص سیکیورٹی پر بہت سارے سوالات اٹھائے ہیں‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!