موجودہ ملکی حالات ‘ پی ٹی آئی نے اتحادیوں سے کوئی مشاورت نہیں کی ‘ ق لیگ

موجودہ ملکی حالات ‘ پی ٹی آئی نے اتحادیوں سے کوئی مشاورت نہیں کی ‘ ق لیگ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق )نے کہا ہے کہ اگر شروع میں ہی اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے سنجیدہ حلقوں کی طرف سے مذاکرات کی دعوت دی جاتی تو کبھی بھی حالات میں اتنی تلخی نہ آتی جتنی اس وقت ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کر تے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ حکومت کبھی بھی حزب مخالف کی جاعتوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیا کرتی۔ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات ہی جمہوری عمل کی بنیاد ہیں اور اگر بنیاد ہی نہ رکھی جائے تو مسائل کا حل کیسے نکلے گا‘۔ا±نھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ان حالات میں بھی اپنے اتحادیوں سے کوئی مشاورت نہیں کی کہ کیسے ان حالات سے نمٹا جائے۔ کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ فریقین کو ’اپنی اپنی پوزیشنز میں تھوڑی سی لچک دکھانی ہوگی‘ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ’تیسری طاقت اس سے فائدہ اٹھائے گی‘ جس سے نقصان نہ صرف حکومت کا بلکہ حزب مخالف کی جماعتوں کا بھی ہوگا۔ا±نھوں نے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ان کی جماعت سے جو کہ حکمراں اتحاد میں شامل ہے، ’کبھی بھی کسی معاملے میں مشاورت نہیں کی‘۔انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں جو رواداری تھی وہ اب ختم ہو رہی ہے اور اس کی جگہ تلخیوں نے لے لی ہے۔کامل عل آغا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ان کی جماعت سے مشاورت کی تو چوہدری برادران ،چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی ان کو ’مخلصانہ مشورہ دیں گے‘۔وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز کا بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ حکومت حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن یہ ’مذاکرات ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہییں‘۔ا±نھوں نے کہا کہ احتساب کا نعرہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے اس لیے حکومت اس نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!