گوادر‘24مربع کلو میٹرشہری علاقے پرحفاظتی آہنی باڑ لگانے کا کام تیز

گوادر‘24مربع کلو میٹرشہری علاقے پرحفاظتی آہنی باڑ لگانے کا کام تیز

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

گوادر: گوادر کے 24مربع کلو میٹرشہری علاقے پرحفاظتی آہنی باڑ لگا یا جائے گاشہر میں داخلے کیلئے صرف دو یا تین مقامات پرگیٹ وے تعمیر کئے جائیں گے صوبائی اوروفاقی حکومت کا منصوبہ گوادر سیف سٹی پروجیکٹ جس کا کل لاگت 1ارب 47 کروڑ روپے ہے یہ بحیرہ عرب میں دنیا کے بڑے سمندری تجارتی راستے پر واقع گہری بندرگاہ کا حامل گوادر شہر پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز ہے بلکہ گوادرمیں چین کے تعاون سے اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے حکام کے مطابق سکیورٹی خطرات کو کم کرنے کے لیے شہر کے گرد باڑ لگائی جارہی ہے تاہم اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ باڑ لگانے سے شہر کا دیہی حصہ کٹ کر رہ جائے گا اور مقامی لوگوں کو آمدروفت میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ بحیرہ عرب میں دنیا کے بڑے سمندری تجارتی راستے پر واقع گہری بندرگاہ کا حامل گوادر شہر پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز ہے۔گوادرمیں چین کے تعاون سے اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے تاہم یہاں شدت پسندوں کی کارروائیاں حکام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔پاکستان نے گوادر اور سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سکیورٹی ڈویژن بھی بنایا ہے۔پاک بحریہ نے2016 میں جدید ڈرونز، ایئر کرافٹس اور ہتھیاروں سے لیس ٹاسک فورس 88 کے نام سے الگ یونٹ قائم کیا جس کا مقصد گوادر پورٹ کو لاحق روایتی اور غیر روایتی خطرات سے بچانا ہے۔ گوادر میں نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے اسلام آباد اور لاہور کے طرز پر سیف سٹی پراجیکٹ پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ گوادر کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدےدار نے نا م ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر کے گرد باڑ لگانے کا یہ منصوبہ بھی سیف سٹی پراجیکٹ کا حصہ ہے۔پشکان سے لے کر کوسٹل ہائی وے جیونی زیرو پوائنٹ تک باڑ لگائی جائے گی۔ اس طرح گوادر کا 24 مربع کلومیٹر شہری علاقہ مکمل طور پر حفاظتی حصار میں آجائے گا۔شہر میں داخلے کے لیے صرف دو یا تین مقامات پر دروازے بنائے جائیں گے۔ ان دروازوں پر چیک پوسٹیں قائم کرکے جدید قسم کی سکیننگ مشینیں اور ہائی ڈیفینیشن کیمرے نصب کیے جائیں گے جس سے آنے جانے والوں کی کڑی نگرانی ممکن ہوسکے گی۔ ضلعی عہدے دار کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ کی وفاقی و صوبائی حکومت نے منظوری دی ہے۔ اس پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ ایک ارب 47 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔شہر میں ڈیڑھ سو مقامات پر تقریبا 500اعلی معیار کے کیمرے لگا کر انہیں فائبر آپٹک کے ذریعے ایک مرکزی کنٹرول روم سے منسک کیا جائے گا۔ یہ کیمرے تاریکی میں دیکھنے، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پہچاننے کی صلاحیت کے بھی حامل ہوں گے۔ ضلعی عہدے دار نے بتایا کہ گوادر کی ضلعی انتظامیہ نے باڑ لگانے کی مخالفت کی تاہم گزشتہ سال مئی میں گوادر کے پرل کانٹینینٹل ہوٹل پرشدت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے سکیورٹی خدشات اور گوادر میں مقیم چینی باشندوں کی حفاظت کے پیش نظر باڑ لگانے پر اصرار کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!