نوشکی کے سیاسی و قبائلی رہنماء چئیرمین ابراہیم جمالدینی نے اپنے ایک بیان میں صوبائی حکومت کی توجہ احمدوال خاران شاہراہ کی ٹوٹ پھوٹ اور عدم مرمت پر مبذول کراتے ہوئے کہاہےکہ احمدوال خاران شاہراہ ایک اہم شاہراہ ہے جس پر روزانہ سینکڑوں لوگ سفر کرتے ہیں جبکہ خاران نوشکی کوہٹہ شاہراہ ہونے کے باوجود اس شاہراہ کی حالت زار پر ارباب اختیار کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں جس سے مسافروں کو سخت کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے علاوہ سڑک کے گردونواح میں متعدد آبادیوں کے سفر کا ذریعہ بھی یہی شاہراہ ہے انہوں نے کہاکہ سڑک کی بنیاد جنرل ضیاء کے دور میں ہوئی جبکہ 1998 میں شیخ زید نے بابل تک شاہراہ کی تعمیر کی تاہم اس کے بعد شاہراہ کی توسیع مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث شاہراہ جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ شاہراہ پر متعدد جگہوں پر گہرے کھڈے بھی پڑ چکے ہیں جس سے آمد و رفت کرنے والے مسافر گاڑیوں اور عام لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں اس کے علاوہ رخشان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر خاران کو ملانے والی شاہراہ کی حالت زار قابل رحم ہے انہوں نے کہاکہ شاہراہ کی تعمیر و مرمت اور توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ شاہراہ کی ٹوٹ پھوٹ سے مریضوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں اور شاہراہ کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث متعدد مریض راستے میں دم توڑتے ہیں ۔انہوں نے صوبائی حکومت کی توجہ احمدوال خاران شاہراہ کی جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہ کی تعمیر و مرمت سمیت توسیع پر صوبائی حکومت توجہ دے اور اس اہم شاہراہ کو قومی شاہراہ کا درجہ دیا جائے تاکہ این ایچ اے کے ذریعے سڑک کی وقتا فوقتا تعمیر و مرمت ہوسکے اور مسافروں،مریضوں اور عام لوگوں کی شاہراہ پر سفر میں آسانی ہو۔
