جسٹس عیسیٰ نظرِ ثانی کیس، بینچ میں اختلاف کرنے والے ججز کی عدم شمولیت پر سوالات

جسٹس عیسیٰ نظرِ ثانی کیس، بینچ میں اختلاف کرنے والے ججز کی عدم شمولیت پر سوالات

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ( ایس سی بی اے) کے صدر لطیف آفریدی نے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس نظر ثانی کیس میں اختلاف کرنے والے 3 ججز کو نکال پر بقیہ 6 ججز پر مشتمل بینچ کی سماعت ہمیشہ اس تاثر کو تقویت دے گی کہ اختلاف رائے رکھنے والی عدالتی آوازوں کو خاموش کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ میں تحریری طور پر جمع کروائے گئے نوٹ میں ایس سی بی اے کے صدر نے دلیل دی کہ کم تعداد میں ججز کے سماعت کرنے سے یہ قدرتی طور پر شفافیت، غیرجانبداری پر سوال اٹھے گا چاہے وہ اچھے طریقے سے تشکیل دیا گیا ہو نامناسب طریقے سے بنایا گیا ہو۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے 10 دسمبر کو سماعت ختم کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا لیکن انہوں نے لطیف آفریدی کو ان کا تحریری مؤقف جمع کروانے کی اجازت دی تھی۔ اپنے نوٹ میں لطیف آفریدی نے 1924 بنام سسیکس جسٹسز کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ‘یہ محض معمولی اہمیت نہیں بلکہ بنیادی اہمیت کی بات ہے کہ نہ صرف انصاف کیا جائے بلکہ بغیر کسی شک و شبہے کے ہوتا نظر آئے’۔ لطیف آفریدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ‘یہ کہا جاسکتا ہے کہ جہاں تک نظر ثانی بینچ کے ججز کی تعداد کی بات ہے چیف جسٹس کو مختصر بینچ تشکیل دینے کی کوئی صوابدید نہیں تھی کیوں کہ فیصلہ/حکم نامہ اکثریت کا تھا مزید برآں جب وہی ججز دستیاب اور عدالت کے افعال مختلف نہ ہوں تو چیف جسٹس کو خاص صوابدید حاصل بھی نہیں ہے اور اصل بینچ کے کسی جج یا ججز کی موجودگی کی کوشش کے باوجود یقینی نہ بنائی جاسکے تو غیر معمولی طور پر دیگر ججز کو نظرِ ثانی بینچ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کیس کی صورتحال مختلف ہوسکتی ہے اور موجودہ کیس میں ایک جج جو کہ حال میں ہی ریٹائر ہوئے ہیں ان کے علاوہ تمام ججز موجود ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ 3 اختلاف کرنے والے ججز کو نظرِ ثانی بینچ کا حصہ نہ بنایا اصل میں درخواست گزار جج کے فیصلہ واپس ہونے یا کالعدم قرار دینے کے حق کا موقع دینے سے انکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر اگر موجودہ کیس میں اصل بینچ تشکیل دیا جاتا ہے اور اکثریتی فیصلہ دینے والے 3 ججز اپنا نقطہ نظر درخواست گزار جج کے حق میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اصل حکم نامہ واپس ہوسکتا ہے لیکن بینچ کی موجودہ صورتحال میں ایسا ہونے کا کوئی موقع نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!