اسلام آباد: اوگرا نے تیل بحران پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ مسترد کردی، اوگرا اتھارٹی نے رپورٹ کے خلاف تمام فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے تیل بحران پر انکوائری رپورٹ کوچیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے اور رپورٹ کے خلاف تمام قانونی,دیگر متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اوگرا اتھارٹی نے رپورٹ بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دے دی۔ ترجمان اوگرا نے کہا ہے کہ انکوائری رپورٹ کا مواد ثابت ہونا ابھی باقی ہے رپورٹ کا معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، ترجمان کے مطابق رپورٹ میں اوگرا پرلگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ پیٹرول کی قلت پر بنائے گئے پیٹرولیم کمیشن کی تحقیقات میں سیکرٹری پیٹرولیم اور ڈی جی آئل کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔ انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئل غیر قانونی طور پر کوٹہ مختص کرنے میں ملوث ہیں، ان کے علاوہ سیکرٹری پیٹرولیم کے بحران میں کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیاجا سکتا، کمیشن نے دونوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پیٹرول بحران کی بڑی وجہ تیل کی درآمدات پر پابندی بھی تھی،پیٹرول عالمی مارکیٹ میں سستا ہوا تو پابندی کی سفارش کی گئی، مئی اورجون میں پیٹرول خریدا گیا تاہم اس کی سپلائی روک دی گئی، حکومت کی جانب سے قیمتیں بڑھانےتک کمپنیوں نے تیل کی سپلائی روک دی۔ انکوائری کمیشن نے بعض مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ کمپنیوں کے پاس آئل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے،20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کرنےکی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،کمپنیوں سے 20 دن تک تیل ذخیرہ نہ کروانا آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ناکامی ہے۔ کمیشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل15دن کی بجائے30دن میں کرنےکی سفارش کردی ہے اور وزارت پیٹرولیم میں مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ کمپنیوں سے روزانہ اورماہانہ بنیادوں پر ذخیرے سے متعلق ڈیٹا حاصل کیا جائے۔ رپورٹ میں کمیشن کی جانب سے اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ 6مہینوں میں قانون سازی کرکے اوگرا کو تحلیل کیا جائے۔





