ترکی کی ایک عدالت نے ترک صحافی جان دندار کو دہشت گردی کی مبینہ حمایت کرنے اور ’فوجی یا سیاسی جاسوسی‘ کے الزام میں 27 برس سے زائد قید کی سزا سنائی ہے۔حکومت مخالف ترک اخبار ‘جمہوریت‘ کے سابق ایڈیٹر ان چیف جان دندار پر دہشت گردی اور جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ وہ ایک ناکام بغاوت کے بعد صحافیوں کے خلاف انقرہ حکومت کی کارروائیوں کے دوران سن 2016 میں ترکی سے بھاگ کر جرمنی چلے آئے تھے۔استنبول کی ایک عدالت نے بدھ کے روز دندار کو سرکاری رازوں کو سیاسی مقاصد کے لیے حاصل کرنے یا فوجی جاسوسی کرنے کے جرم میں 18 برس اور نو ماہ قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ایک مسلح دہشت گرد تنظیم کی، جس کے وہ رکن نہیں تھے، حمایت کرنے کے جرم میں انہیں مزید آٹھ برس اور نو ماہ قید کی سزا بھی سنائی۔حکومت مخالف اخبارجمہوریت کے سابق ایڈیٹر ان چیف جان دندار فی الوقت جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے خلاف یہ مقدمہ ان کی غیرموجودگی میں چلایا گیا۔دندار نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالت کے اس فیصلے سے کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے،”وہ مجھے اس لیے سزا دینا چاہتے ہیں کیوں کہ میں نے حقیقت پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی تھی اور اسی کے ساتھ وہ ترکی میں ان دیگر صحافیوں کو بھی خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں جو اس طرح کے حساس موضوع پر لکھنے کی کوشش کرتے ہیں رجب طیب اردوان نے کہا تھا کہ ترکی کی انٹلی جنس ایجنسی کے راز افشا کرنے کے لیے’جمہوریت‘ کو ‘بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘ انہوں نے کہا،”ترکی کا عدالتی نظام تقریباً پوری طرح ایردوآن حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ اس لیے وہاں کی عدالتوں میں اپیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن ہم انسانی حقوق سے متعلق یورپی عدالت میں جائیں گے اور مجھے امید ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ میں نے جو کچھ کیا وہ دہش گردی نہیں بلکہ صحافتی ذمہ داری تھی۔” استنبول کی عدالت نے دندار کے وکلاء دفاع کی غیر موجودگی کے باوجود اپنا فیصلہ سنا دیا۔ دندار کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے موکل پر عائد کیے گئے الزامات پوری طرح سیاسی ہیں اور وہ عدالت کے حتمی فیصلے میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان وکلاء نے عدالتی فیصلے سے ایک دن قبل منگل کے روز ایک تحریری بیان جاری کر کے کہا تھا،”ہم اس مقدمے کا حصہ نہیں بننا چاہتے، جس کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا گیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے۔” سن 2015 میں ترکی کی جانب سے شام کے باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق ایک خبر شائع کرنے پر انقرہ حکومت نے دندار کے خلاف جاسوسی کے الزامات لگائے گئے تھے، جس کے بعد وہ 2016ء فرار ہو کرجرمنی آ گئے تھے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دندار کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے راز کو افشا کرنے کے لیے’جمہوریت‘ کو ‘بھاری قیمت اد کرنا پڑے گی۔‘ جرمنی میں جلاوطنی کے دوران دندار کو ترکی واپس لوٹ آنے کے لیے پندرہ دنوں کا وقت دیا گیا تھا لیکن انہوں نے وہاں جانے سے انکار کردیا۔عدالت نے دندار کو مفرور قرار دیتے ہوئے ترکی میں ان کے اثاثوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا۔ ان میں انقرہ، استنبول اور مگلا میں مکانات سمیت چار جائیدادیں نیز ان کے نام پر بینک کھاتے شامل تھے۔ ترک حکام نے ستمبر 2016ء میں ان کی اہلیہ کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد دندار نے ایک بیان میں ترکی حکومت کے فیصلے کو ‘غیر قانونی اور بہیمانہ فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ان کی رپورٹ اب لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا،”میں اپنی رپورٹ کو پوری دنیا میں شہرت دلانے کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں






