بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مردہ پائی جانے والی بلوچ سیاسی کارکن کا معاملہ سینیٹ میں اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کریمہ بلوچ کی میت ایئر پورٹ سے اغوا کی گئی اور ان کی والدہ کو دیدار بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ سینیٹ کے اجلاس میں ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ بلوچستان میں سب کریمہ بلوچ کی نماز جنازہ ادا کرنا چاہتے تھے لیکن سیکیورٹی ایجنسیاں ایک میت سے خوفزدہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مکران میں نیٹ ورک بند کرے دیے گیے اور اجازت نہیں دی گئی کہ کریمہ بلوچ کی میت کے ساتھ کوئی اس کی قبر تک جا سکے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی غائبانہ نماز جنازہ پورے ملک میں پڑھی گئی اور ان کی بزور شمشیر تدفین کی گئی۔ انہوں نے سینیٹ میں کہا کہ کریمہ بلوچ کی والدہ کی آنکھوں میں تھے کہ اس کو آخری دیدار کی اجازت نہیں دی گئی۔ سینیٹر نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اینکر اور میڈیا والے بکے ہوئے ہیں کیونکہ کسی نے خبر تک نشر نہ کی جبکہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر مکران میں کرفیو لگا دیا گیا۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ کریمہ بلوچ لڑنے یا مکران فتح کرنے نہیں آئی تھی لیکن آپ ‘شہید’ کے تابوت سے بھی خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہے، اس طرح لوگ نفرت کرتے جائیں گے اور کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ بلوچستان کے لوگ آپ سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں۔ سینیٹر نے کہا کہ اخلاقی طور پر ہر کسی پر فرض ہے کہ خاتون کی لاش کی بے حرمتی پر آواز اٹھائے۔ اس معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فدا محمد خان نے اپوزیشن کو مخاطب کرکے کہا کہ کریمہ بلوچ کی میت پر تو سیاست نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کا جنازہ ہوا ہے جبکہ کریمہ بلوچ کا جنازہ سیاست کے لیے لیاری لے جانا چاہتے تھے۔ فدا محمد خان نے کہا کہ کینڈا کی حکومت نے کہا کہ کریمہ بلوچ کا قتل نہیں ہوا بلکہ موت طبی تھی تو حکومت اسے قتل کیوں کہہ رہی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا ردعملبلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے سینیٹ کے اجلاس میں کہا کہ بلوچ سیاسی رہنما کریمہ بلوچ نے راکھی بند پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے مدد کی اپیل کی تھی اور مرحومہ پاکستان کو ختم کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی آبائی علاقے میں تدفین کی گئی جبکہ تدفین میں سندھ پولیس نے لیڈ لی۔ انوار الحق کاکٹر نے کہا کہ کریمہ بلوچ کی میت کو پولیس سکیورٹی میں لے کر قبرستان تک لیکر گئے کیونکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقع پیش آ سکتا تھا۔ انہوں نے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کے مؤقف کر تردی کی کہ کریمہ بلوچ کی میت کو کسی نے اغوا نہیں کیا۔ سینیٹر انوار الحق کاکٹر نے کہا کہ کریمہ بلوچ اور ان کے رفقا نے پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ہتھیار اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ اگر اپ کہتے ہیں کہ کریمہ بلوچ کی موت میں پاکستانی ریاست کا ہاتھ ہے تو بات کریں، ساجد کا سوئیڈن میں انتقال ہوا تو اسے بھی ریاست پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ سینیٹر نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر جو تشدد کرتا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہی۔انہوں نے کہا کہ کریمہ بلوچ کے لیے لفظ شہادت کا استعمال ہو رہا ہے جیسے ان کی کسی نے جان لے لی ہے۔ علاوہ ازیں سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرمند خان تنگی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد منظور کرلی گئی جس میں نشہ کے عادی افراد کے لیے ہر ضلع میں بحالی مراکز بنائے جائیں۔ اس حوالےسے وفاقی وزیر انسداد منشیات اعجاز احمد شاہ نے بتایا کہ نشے کے عادی افراد مجرم نہیں بلکہ مریض ہیں جبکہ نشہ ور چیزیں سپلائی کرنے والے مجرم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 50 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں اور 2 ماہ میں پنجاب کے ہر ضلع میں نشہ کی لت سے بحالی کے مرکز قائم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اعجاز احمد شاہ نے بتایا کہ ملک میں 33 فیصد ذہنی مریض نشے کی وجہ سے ہیں اور خدشہ ہے کہ 2030 تک 50 فیصد ذہنی مریض نشہ کی وجہ سے ہوں گے۔
