کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، جسٹس(ر) جاوید اقبال

کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، جسٹس(ر) جاوید اقبال

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سیاسی انجینیئرنگ کی جاتی ہے جو کہ درست نہیں، نیب کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اور لوگ کہتے ہیں کہ نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ وفاقی دارالحکومت میں ایوان صنعت و تجارت میں ایک تقریب کے دوران تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے وہ افراد جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیںسکتا تھا، کوئی چھو نہیں سکتا تھا نیب نے انہیں احتساب کے لیے بلایا اور پوچھا تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور انہوں نے ملک سے جانا ہی مناسب سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ جب نیب کا سلسلہ واضح طریقے سے ختم ہوگا تو میں بتاؤں گا کہ کتنی دھمکیاں ہیں، کتنی مراعات ہیں اور کتنا لالچ ہے لیکن جب میں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا کہ جو کچھ میں کرسکا وہ اپنے ملک اور ملک کے عوام کے لیے کروں گا۔ ایک واقعہ بتاتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ایک صاحب کے خلاف سو سے ڈیڑھ سو شکایات آئیں کہ پیسے دینے کے 5 -6 سال بعد بھی کوئی پلاٹس نہیں ملے تو میں نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا آپ نے پیسے لیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تھوڑے سے لیے ہیں پوچھے پر انہوں نے بتایا کہ ڈھائی ارب روپے وہ لے چکے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میں نے انہیں کہا کہ جب پیسے لے لیے ہیں تا یا تو زمین دے دیں یا پیسے واپس کردیں جس پر ان صاحب نے بتایا کہ میری حکمت عملی یہ تھی کہ پہلے میں پیسہ اکٹھا کرلوں اس کے بعد زمین خریدوں اب مجھے زمین نہیں مل رہی، نیب مجھے زمین لے کر دے دے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ہمارے اصرار پر انہوں نے قسطوں میں ادائیگی کی پیشکش کی جو نیب نے منظور کرلی اور اب وہ فرد پیسے دے رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک مرتبہ جو رقم لوٹ لی جائے یا ڈکیتی کرلی جائے اس کی واپسی کا بہت کم امکان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی ایک معروف ہاؤسنگ سوسائٹی سے خاصے دوستانہ ماحول میں 2 سال کے عرصے میں ڈھائی ارب روپے کی رقم حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کاروباری افراد کی شکایت تھی کہ ہمارا نجی معاملہ ہے، نجی معاملہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرد کا دوسرے کے ساتھ ہو لیکن جب سیکڑوں افراد شامل ہوجاتے ہیں تو یہ نجی معاملہ نہیں رہتا۔ چیئرمین نیب نے اپنا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے وقت جب مجھے واجبات ملے تو ایک پلاٹ لینے کا سوچا اور اس کے لیے یکمشت 45 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کی لیکن آج تک نہ پلاٹ ملا نہ وہ 45 لاکھ روپے ملے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!