پاسکو ختم، ملازمین کے لیے 4.18 ارب روپے کے پیکج کی منظوری

پاسکو ختم، ملازمین کے لیے 4.18 ارب روپے کے پیکج کی منظوری

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔
وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت جمعرات کو ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں خوراک، سرکاری شعبے میں اصلاحات اور پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں سے متعلق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کی گئی سمریوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاسکو کے سیلاب سے متاثرہ 8 ہزار 197.989 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر کو کھلی اور مسابقتی بولی کے ذریعے فروخت کرنے کی اجازت دے دی گئ
حکام کے مطابق فروخت کا عمل تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن سے مشروط ہوگا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، مالی نقصانات کم ہوں اور پاسکو کی تنظیم نو و اختتامی عمل میں مدد مل سکے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاسکو کے ملازمین کے لیے 4 ارب 18 کروڑ 80 لاکھ روپے کے سیورنس پیکج کی بھی منظوری دی جس کے تحت اہل ملازمین کو معاوضے اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی جائے گی۔ یہ پیکج ادارے کے منظم انداز میں خاتمے کے عمل کا حصہ ہے۔

اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے مالی استحکام اور گورننس پلان سے متعلق سمری کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ای سی سی نے یونیورسٹی کو ہدایت کی کہ وہ آزاد مالیاتی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک قابل عمل اور طویل المدتی مالیاتی منصوبہ تیار کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!